وزیراعظم ہاؤس میں بی آئی ایس پی کے نئے دفتر کا افتتاح، وزیراعظم اور روبینہ خالد کی شرکت

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت میں مستحق خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نئے وزیراعظم ہاؤس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے جدید دفتر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فلاحی وژن سے آج پورا پاکستان اور آزاد کشمیر مستفید ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم چوہدری فیصل راٹھور کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خواتین کی سہولت اور ان کے وقار کو مقدم رکھتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیے۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم اور دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

روبینہ خالد نے اس امید کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر حکومت اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا یہ رشتہ اسی طرح مضبوطی سے قائم رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد صرف مالی امداد دینا نہیں بلکہ “ہنرمند پروگرام” کے ذریعے خواتین کو مختلف ہنر سکھا کر معاشی طور پر خود مختار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کا بہتر سہارا بن سکیں۔

اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ وہ واحد پروگرام ہے جو بیوہ خواتین اور بچوں کی کفالت کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے روبینہ خالد کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ رشتہ ہے جو محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے لوگ اس پروگرام کے بڑے بینیفشری ہیں اور وزیراعظم ہاؤس میں اس دفتر کا قیام مستحق خواتین کے لیے بڑی آسانی کا سبب بنے گا تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم چوہدری فیصل ممتاز راٹھور نے پاکستان کے عالمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان دنیا میں ایک ثالث (Peace Maker) کے طور پر ابھر رہا ہے اور “جرگے” کا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے لیکن بھارت کے لیے باعثِ تکلیف ہے، کیونکہ پاکستان اب اس مضبوط سفارتی مقام پر ہے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور بہتر طریقے سے اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امن کے لیے یہ عالمی کردار تحریکِ آزادیِ کشمیر کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔

Scroll to Top