اسٹاک ہوم: سوئیڈن نے اپنی تعلیمی پالیسی میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئیڈن کی حکومت نے اسکولوں میں ڈیجیٹل لرننگ کو کم کرنے اور طلبہ کو روایتی کتابوں، کاپیوں اور قلم کی طرف واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی تعلیمی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ’’فرام اسکرین ٹو پیپر‘‘ (from screen to paper) مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد بچوں کی توجہ اسکرین سے ہٹا کر دوبارہ کاغذ اور قلم کی طرف مبذول کروانا ہے۔ اس سلسلے میں پری اسکولز میں ڈیجیٹل آلات کا استعمال مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب کم عمر بچوں کو سیکھنے کے عمل کے دوران ٹیبلٹس نہیں دیے جا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر کے طلباء کیلئے خوشخبری، ایچی سن کالج نے 100فیصد سکالرشپ کا اعلان کردیا
دوسری جانب، ٹیک ماہرین اور کچھ اساتذہ نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل مہارتوں میں کمی مستقبل میں طلبہ کے روزگار اور معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی سے دوری طلبہ کو عالمی دوڑ میں پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ تاہم سوئیڈن کی حکومت روایتی طریقہ تعلیم کو بچوں کی بنیادی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔




