مظفرآباد: چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے فل بینچ نے آزاد کشمیر میں فوڈ سیفٹی سے متعلقہ اہم مقدمہ شاہد زمان بنام آزاد حکومت وغیرہ میں سماعت کی۔
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کے ہمراہ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اورجج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری بینچ میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: جاوید بٹ سمیت 73 ووٹرز کیخلاف ہائیکورٹ کا حکم امتناعی معطل
سائل کی جانب سے راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ نے پیروی کی جبکہ سیکرٹری خوراک اور مجسٹریٹ میونسپل کارپوریشن مظفرآباد ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر کے ہمراہ پیش ہوئے۔
سیکرٹری خوراک نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر فوڈ اتھارٹی نے مافیا کے خلاف بھرپور آپریشن کیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔
حکومت نے پی سی ایس آئی آر لیبارٹری کی ہم پلہ لیبارٹری کے قیام کے لئے جگہ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری کے قیام کے سلسلہ میں پی سی ون مرتب کیا جا رہا ہے۔ پی سی ایس آئی آر سے رہنمائی لئے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں اشیائے خوردونوش کی مؤثر ٹیسٹنگ کے لئے پی سی ایس آئی آر طرز کی اس لیبارٹری کا قیام ناگزیر ہے۔
فوڈ اتھارٹی پی سی ایس آئی آر کے ساتھ مکمل لیزان میں رہتے ہوئے وقتاًفوقتاً رہنمائی کا حصول جاری رکھے۔ عدالت نے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کوبھی سراہتے ہوئے حکم دیا کہ عوام کو مضر صحت اشیائے خوردونوش فراہم کرنے والوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے اور جو کوئی بھی عوامی صحت کو خطرے میں ڈالنے کا ذمہ دار ہو کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مال مویشی رکھنے والوں کو دودھ فروخت کرنے کی اجازت ہوگی،سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے سیکرٹری خوراک کو حکم دیا کہ لیبارٹری کے قیام کے سلسلہ میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔




