مظفرآباد : گھریلو تشدد کا شکار ہونیوالی حواکی بیٹی طاقت کی علامت بن گئی اور ایک سال خوا ر ہونے کے بعد آخر کارعدالت کے ذریعے ملزمان کیخلاف ایف آئی آر درج کرالی۔
14 اپریل 2025 کو منگراں حلقہ کوٹلہ (حال چہلہ بانڈھی) کے رہائشی میر سجاد الرحمان اور حقیقی بھائی میر فاروق، میر صداقت، میر خالد پسران میر محمد خوشحال پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ میر سجاد الرحمان نے اپنی اہلیہ اور 7 سالہ بچی پر مبینہ طور پر شدید تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیں:سماہنی،جنڈالہ گھریلو تنازعہ ، خاتون جاں بحق، 4 نامزد ملزمان گرفتار
متاثرہ خاتون کو زخمی حالت میں طبی معائنے کے لیے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جبکہ واقعہ کی درخواست تھانہ صدر میں بھی جمع کروائی گئی۔
تھانہ صدر کی مدعیت میں لیڈی پولیس کانسٹیبل کی موجودگی میں سی ایم ایچ مظفرآباد سے میڈیکل کروایا گیا جو کہ تشدد سنگین نوعیت کا رپورٹ کی صورت میں پایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر کیس کو گھریلو معاملہ قرار دے کر کارروائی موخر کر دی گئی، جبکہ متاثرہ خاتون کا مؤقف ہے کہ بااثر افراد کی مداخلت کے باعث انصاف کے حصول میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
مزید یہ کہ چند ماہ بعد خاتون کے خلاف ہی ایک مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی۔
متاثرہ خاتون نے ہمت نہ ہارتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور ایک سال تک قانونی جنگ جاری رکھی۔
عدالت نے14 اپریل 2026 کو تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22A کے تحت حکم جاری کیا کہ متعلقہ تھانے میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ثمر خان ،پہلی پاکستانی خاتون جو آرکٹک مہم مکمل کرنے میں کامیاب
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاتون کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو بھی تقویت ملے گی۔
شہری حلقوں نے عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرے تاکہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے۔




