امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر وگلگت بلتستان ڈاکٹرمحمد مشتاق خان نے کہا ہے کہ میں نے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے کہنے پر راجہ فاروق حیدر کی الیکشن میں حمایت کی تھی جس پر وہ جیت کر وزیراعظم بنے۔
2006میں صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم کی حمایت کی تھی اور انہیں بھی بھاری اکثریت سے جتوایا تھا لہذاراجہ فاروق حیدر اور اشفاق ظفر اب نیندرہ واپس کریں اور میری سپورٹ کریں، مسلم کانفرنس کے کارکن بھی میری حمایت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی تحریک کی حمایت کرتے، مہاجرنشستوں بارے اصلاحات لائی جائیں، ڈاکٹر مشتاق
ویڈیو بیان میںڈاکٹرمحمد مشتاق خان نے کہا کہ صدارتی الیکشن کی راہ میں رکاوٹیں پیش کرنے والے دراصل اس خطہ میں جمہوری کلچر کو سبوتاژ کررہے ہیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ صدر آزادکشمیر کی نشست بیرسٹر سلطان محمو د کی وفات کے باعث خالی ہوئی ہے تو قانونی تقاضوں کے مطابق تیس ایام کے اندر الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا۔
یہ الیکشن قانونی طور پر پورے پانچ سال کیلئے ہو، صدارتی الیکشن میں بحران پیدا کرنے والے سٹیک ہولڈرز خطہ میں افراتفری پھیلانے سے باز رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اورجماعت اسلامی کے نظریات میں نمایاں فرق ہے لیکن صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم بڑے مدبر،باوقار، جرات مند اصول پسند اورسیاسی فہم وفراست رکھنے والی شخصیت تھیں ۔
اس خطہ میں وہ پارٹی صدر پہلی بار بنے تھے تو انہوں نے مختلف عوامی مسائل، اس خطہ کی تعمیر وترقی،عوامی خوشحالی،عوامی فلاح وبہبود پر اپنا پروگرام پیش کیا تو ہم نے محسوس کیا کہ غریب،عام شخص کی بات کرنے والے شخص کو اگر ریاست کے کلیدی عہدہ پر متمکن ہونے کیلئے موقع مل رہا ہے تو ڈاکٹر مشتاق تمام تر نظریاتی ساکھ،سیاست کو سمجھنے کے باوجود اگر انہیں موقع دیدے توخطہ کی تعمیر وترقی، مجبور، محکوم عوام کیلئے مناسب ہوگا ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے : فاروق حیدر کا دو ٹوک پیغام
اس بات پر ہم نے اپنا الیکشن چھوڑا ان کی باقاعدہ الیکشن مہم چلائی الحمدللہ وہ بھاری اکثریت سے2006ء میں کامیاب ہوئے، لیکن جیت کے کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
اس کے بعد راجہ فاروق حیدر خان نے بڑی کوشش کی کہ جس طرح میں نے صاحبزادہ اسحاق ظفر کی حمایت کی تو اب کی بار ان کی حمایت کروں تو میں ان کی بات نہیں مان رہا تھا تو پھر راجہ فاروق حیدر خان مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم جو تاریخ کشمیر کے عظیم انسان، لیڈر تھے کو لیکر آگئے
انہوں نے کہا کہ مجاہد اول کے ساتھ میرے مذاکرت ہوئے تو میں نے سیاسی حیا داری کا تقاضا کیا عظیم کشمیری لیڈر میرے غریب خانہ پر آئے میں نے انہیں مایوس نہیں کیا یہ صرف سردار عبدالقیوم خان تھے جن کی گارنٹی پر میں نے راجہ محمدفاروق حیدر خان کا ساتھ دیا۔
ڈاکٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ فاروق حیدر جیت گئے،میری حمایت سے جیتنے کے بعدانھیں دوبارہ وزیراعظم بننے کا موقع ملا، ایک سیاسی کارکن کی اس سے بڑی معراج نہیں ہوتی کہ وہ وزیراعظم کے منصب پر پہنچے لیکن دو بار وزیراعظم رہنے کے باوجود اس حلقہ کے عوام کا احساس محرومی برقرار ہے۔
اب فاروق حیدر کے پاس کوئی بیانیہ نہیں ہے کہ وہ عوام کوامید دلائیں، سیاسی رواداری اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آج فاروق حیدر، اشفاق ظفر پارٹی ہیڈ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حلقہ 6 میں نظام اور قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی، ڈاکٹر مشتاق خان
ڈاکٹر مشتاق کسی چیز میں ان سے کم نہیں ہے، جس نے آپ کیلئے جگہ چھوڑی، جس نے آپ کیلئے اپنی قربانی دی، تو میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ،مسلم کانفرنس کے قائدین،کارکنان سے بصد احترام گزارش کرونگا کہ اس موقع پر میرا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن،مسلم کانفرنس کے کارکنا ن سے بھی کہوں گا کہ میرا نیندرہ مجھے واپس کیا جائے،میں مسلم کانفرنس سے بھی کہوں گا کہ مجاہد اول نے مجھے راجہ فاروق حیدر کی حمایت پر مجبور کیا مسلم کانفرنس کا ہر قائد اورکارکن بھی میرا مقروض ہے تو میں چاہوں گا کہ سردار عبدالقیوم خان کی روح کو تسکین پہنچانے کیلئے وہ بھی ڈاکٹر مشتاق کا ساتھ دیں۔




