افغان طالبان کا پاکستان مخالف گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

کابل(کشمیر ڈیجیٹل)عالمی اور افغان میڈیا نے افغان طالبان کے کابل میں اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور عبرتناک شکست کے بعد افغان طالبان ہزیمت چھپانے کیلئے جھوٹ کا سہارا لینے لگے۔

افغان میڈیا کے مطابق ؛پاک افوج کی جانب سے فضائی حملہ کے دوران ہلاکتوں اور خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نئے نوٹ جاری، شہری قریبی بینکوں سے رابطہ کریں، اسٹیٹ بینک

زویہ نیوز، افغان ٹائمز یا کسی اور میڈیا کے ادارے نے بھی اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

افغان طالبان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ کابل کے ایک بحالی مرکز پر ہوا، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:78سالہ تاریخ کی غلطیوں میں افغانیوں کی مہمان نوازی فاش غلطی ہے،خواجہ آصف

افغان میڈیا کے مطابق بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، جو ممکنہ طور پر قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان (یوناما)نے بھی افغان طالبان کے 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سعودی سپریم کورٹ کی شہریوں سے شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل

افغان میڈیا ٹولو کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے افغانی پروپیگنڈا کو آشکار کیا ہے ۔

عینی شاہد اور افغان میڈیا ٹولو نیوز کے رپورٹر کے مطابق اس وقت کابل سنٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:یونیورسٹی آف حویلی اور مسلم ہینڈز کے مابین معاہدہ،100 سکالر شپس کا اعلان

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کے دعوؤں اور زمینی حقائق میں واضح فرق گمراہ کن پروپیگنڈا کا عکاس ہے۔۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 400 ہلاکتوں کے جھوٹے دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔

Scroll to Top