موٹرسائیکل ورکشہ والوں کیلئے خوشخبری،اربوں روپے سبسڈی ملے گی

اسلام آباد:حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت حاصل ہونے والی بچت سے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو سبسڈی فراہم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکریٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں بچنے والی تقریباً 23 ارب روپے کی رقم سبسڈی کی صورت میں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:،کے پی حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا اعلان کردیا

یہ سبسڈی ملک بھر میںتقریباً 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کے مالکان کو فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق سبسڈی کی تقسیم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر مستحق افراد کو کی جائے گی تاکہ ریلیف حقیقی ضرورت مند طبقے تک پہنچ سکے۔

اس سلسلے میں اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے طریقہ کار تیار کرنے کیلئے ورکنگ شروع کردی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے اور اس کیلئے کون سے اقدامات کئے گئے ہیں؟

ارکان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی یا دیگر عوامل سے حاصل ہونے والا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو منتقل کیا جانا چاہیے۔

اس پر حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مختلف کفایت شعاری اقدامات کیے گئے ہیں اور انہی اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق سبسڈی کا طریقہ کار ماضی میں کورونا وبا کے دوران دی گئی سبسڈی کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگے پٹرول سے چھٹکارا ، حکومت کا الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی دینے کا اعلان

پاکستان کی تقریباً 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطیٰ سے درآمد کی جاتی ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے، کوشش کررہے ہیں کہ موجودہ ذخائرکا استعمال بڑھا دیا جائے۔

سیکرٹری پیٹرولیم کے مطابق اس وقت ملک میں خام تیل کے ذخائر 11 دن، ڈیزل کے 21 دن اور پیٹرول کے 27 دن کے لیے موجود ہیںجبکہ ایل پی جی کے 9 دن اور جیٹ فیول کے 14 دن کے ذخائر دستیاب ہیں۔

حکومت روس سے بھی تیل کی خریداری کے امکانات پر کام کررہی ہے۔

Scroll to Top