افغان طالبان کیخلاف تمام جماعتیں متحد،قبضہ کی گئی پوسٹیں نہیں چھوڑیں گے، سینیٹر افنان اللہ

اسلام آباد: مسلم لیگ ( ن) کے رہنما سینیٹر افنان اللہ نے پاک افغان کشیدگی اور غضب للحق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی نے بھی افغان طالبان کے حالیہ حملوں کی مذمت کی لہٰذا اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہے۔

نجی ٹی وی( اے آر وائی) کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ افغان طالبان دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا ٹی ٹی پی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اب وہ انہیں اپنی شاخ کے طور پر رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے حملے کر رہے ہیں۔

اس سے پاکستان کا موقف درست ثابت ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحدی علاقے لیٹی (تاری پشہ) میں افغان طالبان کا پاکستان کی سول آبادی پر مارٹر حملہ ، 4 شہری شہید

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اب اس معاملے کو ڈیورنڈ لائن پر لے جا رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ بدلہ لینا چاہتے ہیںجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک علاقائی تنازع ہے۔

اس لیے پاکستان کو سخت جواب دینے کا حق ہے۔ وہ ہماری زمین نہیں لے سکتےلیکن ہم ان کی زمین لے سکتے ہیں کیونکہ ہم مضبوط ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کہ افغان پوسٹیں جن پر قبضہ کیا گیا تھا وہ اب بھی ہمارے کنٹرول میں ہیںاور ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ درحقیقت اگر وہ اس راستے پر چلتے رہے تو ہم اضافی علاقے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

بھارتی جنرل کے دعوے سے طالبان کی حقیقت کھل چکی،ہمایوں مہمند

پروگرام میں شریک ہمایوں مہمندکاکہنا تھا کہ میں نے ایک بھارتی جنرل کا یہ دعویٰ سنا کہ ہندوستان گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔

ان کا خیال یہ تھا کہ طالبان کے ذریعے پاکستان کو شمال اور مغرب اورمشرق سے ہندوستان اور جنوب مغرب سے ایران کو کنٹرول کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب بھی طالبان کو ایک دہشتگرد حکومت سمجھتی ہے اور بھارت کھلے عام کہتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہم آہنگی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق تیز ، چترال سرحد پر پاک فوج کی بڑی کارروائی، افغان طالبان کی’’بادانی پوسٹ ‘‘تباہ

افغان حکومت کی ذہنیت یہ ہے کہ اب تک جو بھی وہاں گیا وہ شکست کھا کر واپس آیا جو کسی حد تک درست ہے تاہم پاکستان وہ ملک ہے جس نے افغانستان بنایا ہے۔ لہذاجب آپ ایک ملک بناتے ہیں اور اس کے ساتھ سرحدیں بانٹتے ہیں تو آپ کو ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک مضبوط، جنگ سے بھرپور فوج ہے۔ پڑوسی ممالک کے درمیان اس طرح کا تفاوت، خاص طور پر جب کوئی خود کفیل ہو، کمزور فریق کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

Scroll to Top