140 فوجی زخمی ہوئے ہیں، پینٹاگون، جنگ خاتمے کا فیصلہ ٹرمپ کرینگے، وائٹ ہائوس

پینٹاگون نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر زخم معمولی نوعیت کے ہیںاور 108 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا ایران جنگ ختم کرنے کا اعلان! عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا

انہوں نے کہا کہ 8فوجی شدید زخمی ہیں اور انہیں اعلیٰ ترین سطح کی طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران جنگ ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا، جس میں ایران کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا، اس کی جوہری صلاحیت ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو مٹانا شامل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ رہا ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا، لیکن جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے، چاہے وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔

پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ یہ صدر ٹرمپ ہوں گے جو فیصلہ کریں گے کہ ایران اب براہِ راست خطرہ نہیں رہا۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’تیل اور گیس کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ عارضی ہےاور یہ آپریشن طویل مدت میں قیمتوں کو کم کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اضافی آپشنز تیار کر رہی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ آپشنز کیا ہیں، صرف اتنا کہا کہ ’صدر انھیں استعمال کرنے سے نہیں گھبرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای بھی قتل ہو سکتے ہیں، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل

کیرولین لیوٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری آپریشن ایپک فیوری کی ’کامیابیوں‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملے 90 فیصد سے زیادہ کم ہو گئے ہیں جبکہ ڈرون حملے تقریباً 85 فیصد کم ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے 50 سے زیادہ بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں۔

کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ ان دہشت گردوں کو ختم کیا جائے جو شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتے ہیں اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Scroll to Top