وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس ، تنخواہوں، مراعات میں کمی کا عندیہ

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس اِختتام پذیر ہوگیا جس میں اہم فیصلے کئے گئے ۔

وفاقی کابینہ  کے اجلاس میں حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کرتے ہوئے 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے ۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں کفائت شعاری پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے ۔

وزیراعظم کی تمام سرکاری ملازمین کو کفائت شعاری پر مبنی پلان تیارکرنے کی ہدایات جاری ۔ مشکل حالات میں حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن اقدامات کرے گی ۔ وزیراعظم کی مراعات یافتہ طبقے کو مثال بننے کی تلقین ۔

آن لائن کام کرنے والوں کو بلارکاوٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت، سرکاری وسائل کی بچت،توانائی کے موثر استعمال کیلئے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ

مزید یہ بھی پڑھیں:شرح سود میں کمی یا اضافہ؟سٹیٹ بینک کامانیٹری پالیسی سے متعلق اعلان

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں کفایت شعاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا جس دوران اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطاللہ تارڑ، مصدق ملک ، ہارون اختر اور چاروں صوبوں کے نمائندے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے ۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو بریفنگ دی۔

بتایا گیا کہ علاقائی، عالمی صورتحال کےپاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،توانائی فراہمی،عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں۔

توانائی کے دانشمندانہ استعمال اور ایندھن کے محتاط استعمال پر بھی زور دیا گیا ، سرکاری وسائل کی بچت،توانائی کے موثر استعمال کیلئے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے لیے بڑا اعلان؛ کھلاڑیوں میں لاکھوں روپے تقسیم ہوں گے

 

چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بھی عالمی کشیدگی کے تناظر میں پلان سامنے رکھا ، صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال کی سفارشات سے آگاہ کیا گیا ، وزیراعظم نے انتظامی تیاریوں کے حوالے سے صوبوں کو موثر عملدرآمد کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کی ہدایت پر صوبوں کی مشاورت سے قومی کفایت شعاری پالیسی کا جائزہ لیا گیا، عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا

جبکہ کفایت شعاری پالیسی پر قومی سطح پر یکساں عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ۔وزیراعظم کا سرکاری سطح پر کفایت شعاری پلان پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر زور دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوگیا؟

ان کا کہناتھا کہ ملکی پیداوار،برآمدات،غذائی تحفظ متاثرنہ ہونے پائے استعمال یقینی بنانا ضروری ہے،کفایت شعاری کا بوجھ معاشرے کے تمام طبقات کو منصفانہ طور پر برداشت کرنے پر زور دیا گیا ۔

مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو اس حوالے سے مثال قائم کرنے کی تلقین کی گئی ، کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کےمناسب ذخائر موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ ارکان بھی قومی کفایت شعاری پلان میں اپنا حصہ ڈالیں گے، شہبازشریف نے صورتحال بہتر ہونے تک تنخواہوں اور مراعات میں بھی کمی کا عندیہ دیا ۔

 

 

Scroll to Top