مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا تاحال آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش میں ناکام ثابت ہوا ہے اور تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں بڑا تعطل آگیا اور تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ کے اثرات،پٹرولیم قیمت میں 55 روپے اضافہ
دوسری جانب ایران کے خلیجی ممالک پر مسلسل میزائل اور ڈرونز حملوں کے باعث قطر، کویت اور دیگر ممالک نے بھی تیل اور گیس کی پیداوار میں کمی یا بند کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافہ ہوگیا۔ عالمی معیار کے تیل برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی معیار کے تیل ’’ڈبلیو ٹی آئی‘‘ کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ہر صورت آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے اقدامات کرے گا اور وہاں سے گزرنے والے کمرشل بحری جہازوں کو انشورنس فراہم کی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ کے جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لیے ساتھ ساتھ جائیں گے تاکہ پیٹرول کی قلت پیدا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری،وزیراعظم کاورچوئل ایجوکیشن پلان تیار کرنے کا حکم
امریکی صد کے بیان سے قبل ایران نے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر کوئی جہاز زبردستی اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔




