مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات کو تقریباً 30 دن گزر چکے ہیں تاہم اب تک اسمبلی سیکرٹریٹ آزاد جموں و کشمیر نے ان کے بعد صدر کے عہدے کے خالی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے ۔
اس حوالے سے صدارتی انتخاب کے عمل میں تاخیر نے سیاسی حلقوں اور عوام میں سوالات پیدا کر دئیے ہیں ۔ قانونی طور پر جب کسی عہدیدار کی وفات یا عہدہ خالی ہوتا ہے تو متعلقہ انتظامیہ کو فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن صدارتی انتخابات کے انعقاد کیلئے کارروائی شروع کر سکے ۔
اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق تمام تیاریاں مکمل کی جائیں گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت پاکستان اور عوام ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کا عمل قانونی اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا اور تمام اُمیدواروں کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں گے ۔
تاہم اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن میں تاخیر کے سبب صدارتی انتخاب کی تاریخ اور عمل کا آغاز ابھی تک واضح نہیں ہو سکا، جس کے باعث سیاسی تجزیہ کار اور عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے ۔
بعض حلقے اس تاخیر کو انتظامی سستی یا قانونی پیچیدگیوں سے جوڑ رہے ہیں جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ جلد نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد انتخاب کے لیے باقاعدہ کارروائی شروع ہو جائے گی ۔
واضح رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے دور صدارت میں متعدد اہم اصلاحات اور اقدامات کیے تھےاور ان کی وفات کے بعد خالی ہونے والا عہدہ حساس نوعیت کا سمجھا جاتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیر دفاع خواجہ آصف نے عوام سے اہم اپیل کر دی
عوام اور سیاسی حلقے اب اسمبلی سیکرٹریٹ سے جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کی توقع کر رہے ہیں تاکہ صدارتی انتخاب کا عمل بلا تاخیر مکمل ہو سکے ۔




