عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ کابل حکومت اسلام آباد کے ساتھ “مذاکرات” کے ذریعے موجودہ جھڑپوں اور سرحدی کشیدگی کا حل چاہتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی حفاظت فریضہ،قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سہیل آفریدی
ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان کیخلاف آپریشن کب بند کرنا ہے فیصلہ وزیراعظم کریں گے، ترجمان پاک فوج
حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور سیکیورٹی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر عالمی برادری کی بھی نظر ہے۔
BREAKING: Afghanistan government wants “dialogue” with Pakistan to resolve the ongoing fighting, says spokesman Zabihullah Mujahid.
🔴 LIVE updates: https://t.co/j8CsMjuxHv pic.twitter.com/fd31wL1N1X
— Al Jazeera English (@AJEnglish) February 27, 2026
طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی۔
افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ملکی دفاع کیلئے ہردم تیار ہیں،وزیراعظم
افغان میڈیا نے بتایا کہ صوبے پکتیا میں طالبان منصوری کور پردو مرتبہ بمباری کی گئی۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ رات12بجےکے بعد قندھار میں پاکستانی طیارہ پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا۔




