افغانستان کیخلاف آپریشن کب بند کرنا ہے فیصلہ وزیراعظم کریں گے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(کشمیر ڈیجیٹل)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان کیخلاف آپریشن ابھی جاری،آپریشن کب بند کرنا ہے یہ فیصلہ وزیراعظم پاکستان کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور قوم خیبر پختونخواپولیس اور ان کی قربانیوں کو سلوٹ پیش کرتی ہے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپریشن کے دوران ہمارے 12 جوان شہید اور 27 زخمی ہوئے ایک لاپتا ہے،

قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے ، معرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کی طرح آپریشن غضب للحق میں فوج نے کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان رجیم پر کئی بار یہ واضح کرچکا ہے کہ دہشت گرد یا پاکستان، کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج نے ایک بار پھر خطے میں اپنی دفاعی صلاحیت اور طاقت ثابت کردی ،بلاول

افغان رجیم نے ہی دوحا میں مذاکرات کیے، کچھ وعدے کیے کہ یہاں نمائندگی پر مبنی حکومت بنے گی ، خواتین کا احترام کیا جائے گا ۔۔

اسی طرح انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ افغان زمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رہی۔

ڈی جی آئی ایس آر نے کہا کہ ہماری فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایاگیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک افغان صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے فائرورکس پوری دنیا نے دیکھے، قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی دیا ہے، جیسے معرکہ حق میں پوری قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی تھی یہی مناظر کل بھی دیکھے گئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں سے صرف پاکستان یا خطے کو نہیں دنیا کو خطرہ ہے، پاکستان میں دہشت گردی ہوگی تو دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں کی کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان اور دہشت گرد تنظیم میں کسی ایک کو چننا ہوگا، افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش کو چنے یا پھر پاکستان کو فیصلہ کرلیں۔

Scroll to Top