پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا انجام عبرت ناک ثابت ہوا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی قہر انگیز جوابی کارروائی اور دندان شکن جواب کے بعد افغان طالبان طورخم بارڈر سے دم دبا کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے موثر جواب نے سرحد پار دشمن پر اس قدر لرزہ طاری کیا کہ افغان طالبان تورخم بارڈر پر اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
عینی شاہدین اور سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان اہلکار ٹرکوں پر اپنا سامان لاد کر سرحدی علاقوں سے دور فرار ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چترال سیکٹر، پاک فوج نے افغان طالبان کا بریکوٹ بیس تباہ کردیا
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کے بزدلانہ حملوں کا جواب پوری قوت سے دیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے قدم اکھڑ گئے۔
پاکستان کی افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی سرحدی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمارے جوان ہمہ وقت الرٹ ہیں، سیکیورٹی ذرائع نے دو ٹوک پیغام دیا۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاک فوج کی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 36 کارندے ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان رجیم کی جانب سے فتنہ الخوارج کی پشت پناہی اب پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ پاکستان نے چترال میں ان کی اہم بریکوٹ بیس کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر 12 چوکیاں بھی فتح کر لی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکائی نیوز کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، جعلی سٹوری ڈیلیٹ کردی
ایک طرف جہاں میدانِ جنگ میں افغان طالبان کو شکستِ فاش کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف ان کے ترجمان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹا بیانیہ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ تاہم تورخم بارڈر سے ان کا فرار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی پیشہ ورانہ افواج نے حملہ آوروں کے تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ملک کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر میلی آنکھ دیکھنے والے کو اسی طرح کا دندان شکن جواب دیا جاتا رہے گا۔




