ریاض/اسلام آباد: ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان کی مبارک ساعتیں حرمین شریفین میں گزارے۔ اس ماہِ مقدس میں دنیا بھر سے لاکھوں معتمرین کی آمد کے پیشِ نظر سعودی حکام نے عمرہ ویزا کے اجرا اور سفری انتظامات سے متعلق جامع گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
ویزا کے حصول کے ذرائع:
سعودی عرب نے عمرہ ویزا حاصل کرنے کے لیے متعدد سہل ذرائع فراہم کیے ہیں۔ ان میں وزارت خارجہ کا الیکٹرانک ویزا پلیٹ فارم، منظور شدہ بیرونی ایجنٹس اور مخصوص “نسک” (Nusuk) پلیٹ فارم شامل ہے۔ یہ پلیٹ فارم لائسنس یافتہ سروس فراہم کنندگان کے ذریعے زائرین کو مکمل پیکیجز پیش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ نے 1800 غیر ملکی ٹریول ایجنسیز کےخلاف بڑا اقدام اٹھا لیا
نسک ایپ اور لازمی اجازت نامہ:
مسجد الحرام جانے سے پہلے “نسک” ایپ کے ذریعے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا ایک بنیادی شرط ہے۔ یہ ایپ نہ صرف عمرہ اور ریاض الجنۃ میں نماز کے لیے وقت کی بکنگ اور الیکٹرانک انٹری کوڈ فراہم کرتی ہے، بلکہ اوقات کی یاد دہانی اور پرہجوم مقامات کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اس میں موجود متعدد زبانوں کی سہولت دنیا بھر کے معتمرین کو نظم و ضبط کے ساتھ منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ٹرانزٹ ویزا اور نقل و حرکت کی آزادی:
مخصوص شرائط کے تحت 96 گھنٹوں کا ٹرانزٹ ویزا بھی عمرہ کی ادائیگی کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، باقاعدہ عمرہ ویزا رکھنے والے زائرین اپنی مدتِ میعاد کے دوران مملکت کے تمام علاقوں میں آزادی سے نقل و حرکت کرنے کے مجاز ہیں۔
مقدس شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ:
شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مکہ مکرمہ کے درمیان حرمین ایکسپریس ٹرین، بسوں، ٹیکسیوں اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ایپس کا جال بچھا ہوا ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کے لیے بھی ٹرین، ہوائی جہاز یا بسوں کے ذریعے سفر کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے تاکہ دونوں مقدس شہروں کے درمیان زائرین کی روانی برقرار رہے۔
حرمین شریفین میں زائرین کے لیے خدمات:
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں زائرین کے آرام کے لیے دستی اور الیکٹرک وہیل چیئرز، سامان رکھنے کے مراکز اور آبِ زمزم کی فراہمی کا مربوط نظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ رہنمائی اور فوری ترجمے کے مراکز بھی فعال ہیں جو ڈیجیٹل گائیڈنس کے ذریعے اللہ کے مہمانوں کی مدد کرتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر اور ہدایات:
متعلقہ حکام نے زائرین کو سکون اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عبادت میں خلل ڈالنے والی فوٹو گرافی اور ممنوعہ اشیا لانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سفر سے پہلے صحت کے حوالے سے تیاری اور واپسی کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے تاکہ ایک محفوظ تجربہ یقینی بنایا جا سکے۔




