امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیادوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقوں کے بعد آج راکٹ لانچ کرنے کا نوٹم جاری کردیا ہے۔
امریکی میڈیا نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی پر غور و فکر میں کافی وقت صرف کیا جارہا ہے اورساتھ ہی مختلف عسکری اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اس بارے میں بہت زیادہ وقت سوچنےمیں گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت نے امریکی خوشنودی کیلئے3ایرانی آئل ٹینکر ضبط کر لئے
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور خطے میں کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔
یاد رہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران ممکنہ طور پر اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور قریبی بنکرز یا محفوظ مقامات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری طرف ایران نے اپنے جنوبی علاقوں میں راکٹ لانچز کے منصوبے کے پیش نظر نوٹم جاری کر دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق جاری کردہ نوٹم میں پائلٹس، فلائٹ عملے اور فضائی حدود استعمال کرنے والے دیگر افراد کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور متعلقہ علاقوں میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا دوسرادور ختم ،خامنہ ای نے ٹرمپ کو خبردار کردیا
رپورٹس کے مطابق ایران نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں بھی کیں جبکہ جمعرات سے روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ ان مشقوں کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے نوٹم ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران کے قریب اپنے جنگی جہاز تعینات کر چکا ہے۔




