اسلام آباد:پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔ بھارت کے تمام ملٹری و سول رجسٹرڈ طیاروں کے لیےفضائی حدود 23 مارچ تک بند رہے گی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش کا نیا نوٹم جاری کردیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں مزید توسیع ،ایئر انڈیا کو ہزاروں کروڑ نقصان کا بھارتی اعتراف
بھارت نے پہلگام واقعہ کے بعدجھوٹے الزامات لگا کر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کی تھیں۔
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئر لائنز کی تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
یہ پروازیں، جو زیادہ تر شمالی بھارت سے مغربی ایشیا، قفقاز، یورپ، برطانیہ اور مشرقی شمالی امریکہ کے مقامات تک جاتی ہیں، اب طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
اس بندش سے پرواز کے دورانیے میں 15 منٹ سے لے کر کئی گھنٹوں تک اضافہ، ایندھن کے زیادہ اخراجات اور عملے و پروازوں کے شیڈول میں پیچیدگی جیسے متعدد آپریشنل مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ٹاٹا گروپ کی ایئر لائن ایئر انڈیا کے اندازے کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش اسے سالانہ بنیاد پر تقریباً 4,000 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے برعکس بھارت کی فضائی حدود کی بندش کا پاکستان پر اثر نسبتاً نہایت کم رہا ہے کیونکہ سول ایوی ایشن کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق اپریل میں فضائی بندش سے قبل پی آئی اے کی صرف تقریباً چھ پروازیں فی ہفتہ، جو کوالالمپور سے لاہور یا اسلام آباد جاتی تھیں، بھارت کے اوپر سے گزرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد
ماہرین کے مطابق اسے قبل جب پاکستان نے 2019 میں چار ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی تو بھارتی کیریئرز کو مجموعی طور پر تقریباً 700 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔




