دو بار گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کرنیوالا کشمیری ایتھلیٹ حکمرانوں کی بے حسی کا شکار

آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے حلقہ ایل اے 27 سے تعلق رکھنے والا میراتھن رنر محمد یوسف ملک دوبار ورلڈ گنیز ریکارڈ حاصل کرنے کے باوجود حکمرانوں کی بے حسی کا شکار ہو کر رہ گیا۔

کراچی میں مقیم محمد یوسف ملک کا کہنا ہے کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں پہلا کشمیری ہوں جس نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر 42.2 کلومیٹر (فل میراتھن) میں نمائندگی دی اور اسی کیٹیگری میں 2 بار گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔

یہ بھی پڑھیں: فٹ بال کے عالمی سپر اسٹار لیونل میسی 21ویں صدی کے بہترین ایتھلیٹ قرار

میں دنیا کے 10 سے 12 ممالک میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم بلند کر چکا ہوں۔

جب میں گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا کر واپس آیا تووزیراعظم آزاد کشمیر(وقت ) نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے مظفرآباد بلا کر سرکاری طور پر اعزاز اور شناخت دی جائے گی۔

یوسف ملک کا کہنا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متعدد کوششوں کے باوجود نہ مجھے کوئی وقت دیا گیا اور نہ ہی کسی ذمہ دار ادارے نے جواب دینا ضروری سمجھاہے ۔

یوسف ملک نے کہا کہ میں نے پاکستان کی سینئر صحافی مونا خان کو 42.2 کلومیٹر فل میراتھن کی کوچنگ دی۔ آج وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کی نمائندگی کر رہی ہیں اور وہ خود بھی گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ہیں۔

ہم دونوں وہ پہلے پاکستانی اور کشمیری ہیں جنہوں نے یونان (گریس) کے تاریخی اولمپک اسٹیڈیم میں 42.2 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کی اور تقریباً 70سے 72برس بعد اسی اسٹیڈیم میں کشمیر اور پاکستان کا پرچم لہرایا، جہاں سے دنیا میں کھیلوں کا آغاز ہوا تھا۔

یوسف ملک کا شکوہ ہےکہ میں حوصلہ افزائی اور سرکاری سرپرستی کا متقاضی ہوں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے آج تک نہ ہمیں بلایا، نہ سراہا اور نہ ہی ہماری کسی درخواست کا جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی مونا خان نے لندن میراتھن ریس میں ’’گنیز ورلڈ ریکارڈ‘‘ حاصل کرلیا

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ایسے افراد جو بغیر کسی سرکاری سہولت کے عالمی سطح پر ملک اور کشمیر کا نام روشن کر رہے ہیں، انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ من پسند افراد کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔

یوسف ملک کا کہنا ہے اس روئیے سے نہ صرف اسپورٹس مین بلکہ نوجوان نسل بھی شدید طور پر ڈی موٹیویٹ ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپنے حقیقی ہیروز کی حوصلہ افزائی کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے۔؟

Scroll to Top