مظفرآباد:ترجمان محکمہ خوراک نے سوشل میڈیا پر سرکاری آٹا کی کوالٹی کے حوالہ سے سامنے آنے والی شکایات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد سالانہ 03 لاکھ ٹن گندم میسر ز پاسکو کی جانب سے ریاست آزاد جموں و کشمیر کو فراہم کی جاتی ہے ۔
رواں سال کیلئے 50 فیصد ملکی اور 50 فیصد غیر ملکی کے تناسب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق گندم محکمہ خوراک کو مہیا کی جا رہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم ویلی،سرکاری آٹا میں خورد برد پکڑی گئی، ڈیلر کا لائسنس معطل
محکمہ خوراک کو فراہم کردہ غیر ملکی گندم کا دانہ سرد علاقہ کی پیداوار ہونے کی بناء پر سیاہی مائل ہے۔بدیں وجہ اس کی پسوائی سے تیار ہونے والے آٹے کی رنگت بھی گہری ہوتی ہے۔
محکمہ خوراک گندم / آٹا کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کے بعد ترسیل عمل میں لاتا ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی بھی صورت میں غیر معیاری گندم / آٹا ترسیل نہ ہو ۔
اگر کسی جگہ کوالٹی کے حوالہ سے شکایت ہے تو متعلقہ ڈپو یا ضلعی دفتر سے رابطہ کیا جائے یا ہیلپ لائن 1280 پر شکایت در ج کروائی جائے جس پر فوراً کاروائی ضابطہ عمل میں لائی جائے گی ۔
یہ بھی پڑھیں: آٹا فراہمی میں لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کرینگے،وزیراعظم فیصل راٹھور
محکمہ خوراک عوام الناس کو معیاری آٹا کی فراہمی میں کوشاں ہے جس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے گا۔




