مظفرآباد:آزادکشمیر میں محکمہ صحت کے شعبہ میں ریگولیٹری نظام نہ ہونے پر ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کیلئے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی گئی جس میں حکومت سمیت محکمہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
شاہد زمان اعوان اور ساجد سرور نامی شہریوں کی جانب سےآزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے آزاد کشمیر میں صحت کے شعبے کے لیے کوئی موثر ریگولیٹری نظام موجود نہیں، جس سے علاج کا معیار، مریضوں کی حفاظت اور طبی عملہ کا احتساب ممکن ہو، نہ ہی اس حوالے سے شکایات کے ازالے کا کوئی مضبوط فورم موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر صحت آزاد کشمیر بازل نقوی کی زیر صدارت اجلاس ، ہسپتالوں کی بہتری کیلئے اہم فیصلے
سرکاری اسپتالوں میں سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث شہریوں کا حقِ زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے۔
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا قانون بنائے تاکہ نجی و سرکاری اداروں کی نگرانی، لائسنسنگ، قیمتوں کے کنٹرول اور طبی عملے کی غفلت کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکے۔
پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت کو ہیلتھ کیئر کمیشن کا بل اسمبلی میں پیش کرے اور اس کی جلد منظوری کو یقینی بنانے کی ڈائریکشن دے تاکہ آزاد جموں و کشمیر میں شعبہ صحت سے جڑے مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔
عدالت میں دائر کی گئی اس پٹیشن کو ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام سے نہ صرف مریضوں کو معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی بلکہ نجی اور سرکاری طبی اداروں میں شفافیت اور احتساب کا نظام بھی مضبوط ہو گا، جس سے عوام کا صحت کے نظام پر اعتماد بحال کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیلتھ کارڈ اور وفاقی امداد پربیرسٹر افتخار گیلانی نے سوالات اٹھا دیے
اگر حکومت نے بروقت اس معاملے پر قانون سازی نہ کی تو صحت کے شعبے میں مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت عالیہ کی مداخلت سے حکومت کو مؤثر اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا اور آزاد جموں و کشمیر میں صحت کی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔




