مظفرآباد: مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وزیر حکومت آزادکشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے پر من وعن عملدرآمد ہونا چاہیئے۔ ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت آزادکشمیر کے پاس اے ڈی پی میں چھ ماہ سے پیسے موجود ہیں، تاہم آزادکشمیر کے عوام کو ہیلتھ کارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے لئے ہیلتھ کارڈ جاری کیا اور اس میں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ حکومت آزادکشمیر کی ذمہ داری تھی جس کا نوٹیفکیشن آج تک جاری نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ جب بھی آزادکشمیر میں مسائل پیدا ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف نے براہ راست مداخلت کی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بجلی اور آٹے پر سبسڈی کے لیے آزادکشمیر کے عوام کو 27 ارب روپے فراہم کیے تاکہ آزادکشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے وہ ختم ہوں۔ جب دوبارہ تنازعہ پیدا ہوا تو وزیراعظم نے خود ایک خط لکھا اور انتہائی سنجیدہ، قابل اعتماد وفاقی وزراء کی ٹیم مذاکرات کے لیے مظفرآباد بھیجی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پاکستان نے آزادکشمیر عوام کیلئے مفت صحت کارڈ کا اجراء کردیا
بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے پر وفاقی وزراء کے دستخط موجود ہیں اور ان کی خواہش نہیں بلکہ مطالبہ ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد ہو۔ حکومت آزادکشمیر کہہ رہی ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد ہو چکا ہے، لیکن ایکشن کمیٹی حکومتی موقف کو تسلیم نہیں کر رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت آزادکشمیر ہمیں بتائے کہ یہ اختلاف کیوں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جب آزادکشمیر میں معاملات سنگینی اختیار کر جاتے ہیں تو تب انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لہذا اگر آج مسائل ہیں تو انہیں آج ہی حل کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہیں اور کسی بھی قسم کے مسائل کو صرف بات چیت اور معاہدے پر عملدرآمد سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔




