مظفر آباد :قائم مقام صدر آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر نےکہا ہے کہ5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر دنیا بھر میں مقیم پاکستانی و کشمیری مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں اور بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کررہے ہیں۔
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ بھارت جس طرح مودی کی ہندوتوا پالیسی پر گامزن ہے اُس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جلد بھارت کا شیرازہ بکھر جائیگا اور مودی بھارت کا گوربا چوف ثابت ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر لطیف اکبر نے یوتھ پارلیمانی فورمز قائم کرنے کی تجویز دیدی
انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی دہشتگرد ہے جو مقبوضہ جموں وکشمیر کی نہتی عوام پر گزشتہ سات دہائیوں سے ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔آج کا دن پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتہ کی پہچان ہے جسے کئی دہائیوں سے بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بند کروائیں اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے ظلم وجبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈانہیں چھوڑا جو بے گناہ اور بے سروسامان کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو لیکن کشمیری عوام جرات اور حوصلے سے اپنے موقف پر قائم ہیں اور کشمیریوں نے اپنے نصب العین کونہیں چھوڑااور نہ ہی وہ اپنے موقف سے دستبردار ہونگے۔
عالمی برادری کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5اگست 2019کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو بدلنے کی جو مذموم کوشش کی، وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عالمی برادری اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرے اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدایشی حق، حقِ خودارادیت دلوائے۔
یہ بھی پڑھیں:بنیان مرصوص کے بعدبھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہے، چوہدری لطیف اکبر
آج مقبوضہ کشمیر کی عوام سے بھرپور انداز میں یکجہتی کا اظہار کریں اور انہیں یہ یقین دلا دیں کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو اپنے توپ و تفنگ سے زیر نہیں کر سکتا اور ہم اُن کی حق خوداریدیت کی جدوجہد میں اُن کے شانہ بشانہ ہیں۔




