کبھی رشوت دینےکی ضرورت نہیں پڑی، 73 فیصد پاکستانیو ں کا اظہار خیال

راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)73 فیصد پاکستانیوں کے مطابق انہیں کبھی رشوت دینےکی ضرورت نہیں پڑی، ایف پی سی سی آئی سروے میں انکشاف۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر کرائے گئے سروے کے نتائج جاری کردیئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آئی فون 14 کے مختلف ماڈلز کی کسٹم ویلیو میں کمی کا اعلان

سروے میں عوام کی اکثریت یعنی67 فیصد نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونےکی تصدیق کردی۔5 فیصد نےکہا سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے خود دولت بناتے دیکھاجبکہ 73 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی رشوت دینےکی نوبت پیش نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں بدعنوانی کے بارے میں “عوامی تاثر” اور “ذاتی تجربے” میں واضح فرق سامنے آگیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور مہاجرین جموں وکشمیر کے مابین ہنگامی اجلاس، بھوک ہڑتال کی دھمکی

68 فیصد کا “تاثر” ہےکہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے،27 فیصد نے کہا کہ ان سے رشوت مانگی گئی۔

56 فیصد افراد کا تاثر ہے سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے ، 24 فیصد نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورت حال بھگتی جہاں اقربا پروری نے میرٹ کی خلاف ورزی کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فریال تالپورمیرپور پہنچ گئیں،بیرسٹر سلطان کے انتقال پرتعزیت،اہم فیصلے متوقع

ایف پی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ سروے کا مقصد ملک میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس بنانا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہےکہ ایک سیاسی گروہ نے سیاسی مفاد کیلئے منفی پروپیگنڈا کیا ۔ سروے درست حقائق تک پہنچنے کیلئے کیا گیا ، بدعنوانی کے خاتمےکیلئے بھرپور اقدامات کئے ہیں ۔

Scroll to Top