رمضان سے پہلے ہی اشیائے خوردونوش مہنگی، سرکاری رپورٹ سامنے آ گئی

ملک میں رمضان المبارک سے پہلے ہی مہنگائی نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق جنوری کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاجس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 5.80 فیصد تک پہنچ گئی۔

وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2026 میں ماہانہ بنیادوں پر متعدد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زندہ برائلر مرغی کی قیمت میں 16 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گندم 10 فیصد مہنگی ہوئی۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت میں 7 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 4.8 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کا نیا جھٹکا، ڈیزل کےبعدمٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ

اعدادوشمار کے مطابق پھلوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 2.28 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مصالحہ جات کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مچھلی، بیکری آئٹمز، دال مونگ، خشک میوہ جات، خشک دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب جنوری کے دوران بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پیاز اور آلو کی قیمتوں میں 28 فیصد کمی ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر سبزیوں کی قیمتیں 16.59 فیصد تک سستی ہوئیں۔ اسی طرح چینی کی قیمت میں 9.6 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھیں: رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان،محکمہ شماریات کی اہم رپورٹ جاری

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ دال چنا، دال مسور، گڑ، ماش، بیسن اور سگریٹس کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.24 فیصد رہی ہے۔

Scroll to Top