اسلام آباد:مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کی مداخلت پر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے ناراض رہنماؤں میں صلح ہوگئی اور انور گروپ نے حافظ حفیظ الرحمان کو صدر تسلیم کرلیا اوراکبر تابان کو جنرل سیکرٹری کے عہدے پر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔
مسلم لیگ(ن) گلگت بلتستان کے رہنمائوں میں عرصہ سے اختلافات چلے آرہے تھے، کئی بار خاتمے کی کوشش کی گئی لیکن دو گروپ مدمقابل تھے جس پر میاں نوازشریف نے وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ،احسن اقبال اور رانا ثنااللہ کو ذمہ داری سونپی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی انتقامی کارروائیاں،ن لیگی رہنما چوہدری محمدرزاق کا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان
میاں نواز شریف نے حافظ حفیظ الرحمن اور اکبر تابان کو بلا کربھی ہدایات دی تھیں کہ وہ آپس میں مل بیٹھیں اور مخالفین کو موقع نہ دیں، مخالفین پارٹی کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پارٹی قیادت کی ہدایت ملنے کے بعد احسن اقبال رانا ثناءاللہ اور انجینئر امیر مقام پارٹی رہنماؤں کو ایک میز پر بٹھانے کیلئے سرگرم ہوگئے ۔
ذرائع کے مطابق گلگت سے معروف جرگہ دار طفیل احمد اور سابق وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے بھی حفیظ الرحمن اور انجینئر انور گروپ کو ایک جگہ بٹھانے کیلئے کئی بار نشستیں کیں۔
رانا ثناءاللہ اور احسن اقبال سے حافظ حفیظ الرحمن اور انجینئر انور اکبر تابان نے ملاقاتیں کیں ۔پیر کے روز وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے دونوں لیگی دھڑوں کو اپنے آفس میں بلایا اور انہیں پارٹی قائد کا پیغام پہنچایا ۔
طفیل احمد اور اورنگزیب ایڈووکیٹ کی ثالثی میں انجینئر امیر مقام نے لیگی دھڑوں کو ایک میز پر بٹھایا اور ان کے مابین مصالحت کرادی دھڑوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کرلیا اور آئندہ الیکشن مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کردیا۔
انجینئر امیر مقام نے کہاکہ لیگی دھڑوں کی مصالحت نے مخالفین کے سارے اندازے غلط ثابت کردئیے، اب پارٹی شروع ہوگئی ہے مخالفین زمین پر سر ٹکراتے رہیں گے۔
حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ بہت ساروں کی خواہش تھی کہ پارٹی اختلافات کا شکار رہے اور ہمارے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھائیں مگر ان کے ارادے خاک میں مل گئے ہمارے دوستوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ دور ہوگئے ہم آئندہ الیکشن بھرپور طریقے سے لڑیں گے طاقت کے ساتھ لڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے پر عملدرآمد تیز کیا جائے، امیر مقام ،ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کو پھر ساتھ بیٹھے کی دعوت
اکبر تابان نے کہاکہ پارٹی کے صدر حافظ حفیظ الرحمن ہیں میں جنرل سکرٹری ہوں پارٹی اختلافات ختم ہوگئے میاں نواز شریف کا ہر حکم حرف آخر ہے قائد نے حکم دیا کہ معاملات خوش اسلوبی سے نمٹائے جائیں ہم نے معاملات نمٹا دیئے۔
مشہور جرگہ دار طفیل احمد نے کہاکہ پارٹی رہنماؤں کے مابین گلے شکوے دور کرلئے گئے فریقین شیر و شکر ہوگئے جو مخالفین کی شکست اور پارٹی کارکنوں کی جیت ہے اب پارٹی کی جیت سو فیصد یقینی ہوگئی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے گروپ بندی کے خاتمے سے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے الیکشن میں اہم پوزیشن پر آگئی ہے اور حکومت بھی بنا سکتی ہے۔




