اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ۔
جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اب تک ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عملدرآمد کے کام میں مزید تیزی لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر وزیر اعظم کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکراتی عمل ہی عوامی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، وفاقی وزیر امیر مقام
انجینئر امیر مقام نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران شبیر احمد عثمانی، سیکرٹری امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران ظفر حسن، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور ایڈیشنل سیکرٹری کامران رحمان خان بھی اجلاس میں شریک تھے۔
متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے حکام نے اجلاس کو اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی، جبکہ چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے عملدرآمد کے عمل پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔
اجلاس میں وزارتِ امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران، آزاد کشمیر حکومت کے سینئر حکام اور سول ایوی ایشن، قومی صحت کی خدمات، پلاننگ کمیشن، مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پاور ڈویژن، آبی وسائل اور وفاقی تعلیم کے نمائندوں نے شرکت کی۔
دریں اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر تیزی پر عملدرآمد ہورہا ہے، قانونی چیزوں پر وقت لگتا ہے، جائزہ اجلاس میں ہرمعاملے پر بات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کا معاملہ حل ہو گیا ہے اور ہسپتالوں میں علاج شروع ہوچکا ہے، جتنے بھی نکات تھے ان پر کام جاری ہے، پہلے بھی ایکشن کمیٹی والوں کو کہا تھا اب بھی کہتا ہوں ہمارے ساتھ آکربیٹھیں۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ احتجاج سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، ایکشن کمیٹی کو ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیے،امید ہے الگے اجلاس میں ایکشن کمیٹی کے نمائندے آئیں گے، ہمارا مقصد کشمیری عوام کو ریلیف دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے اور کہا ہے کہ آزادکشمیر کی تنظیم تینوں ڈویژنز میں جا کر امیدواروں سے شاہ غلام قادر کی قیادت میں کمیٹی انٹرویو کریگی اور سفارشات بھیج دیں اور فیصلہ نوازشریف کرینگے۔نوازشریف نے مظفرآباد آناہوگا جو بھی فیصلہ کرینگے وہی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل راٹھور کاعوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اعلان
امیر مقام کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ وزیراعظم آزادکشمیر اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے چیف الیکشن کمشنر کے نام آئیں جو آچکے ہیں ، ان میں سے کسی کو بھی فائنل کر لیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت سے ن لیگ کے اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں۔کوشش ہوتی ہے آزادکشمیر میںمعاملات خوش اسلوبی سے حل ہوں۔




