بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی کارروائی، انتہائی مطلوب کمانڈر سمیت 6 خوارج دہشتگرد ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر سمیت فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اتوار کو جاری یہ آپریشن چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحصیل ڈومیل کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے سرچ اور کلیئرنس آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی فرد کو بغیر اجازت علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

دہشتگردوں کے ٹھکانے مسمار:

میڈیا رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر سمیت متعدد دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں دھماکوں کے ذریعے مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشتگردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں متعدددہشت گرد حملے ناکام، سیکیورٹی فورسز کا 12 مقامات پر مکمل کنٹرول

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں یاسر آفریدی کے مطابق آپریشن کے دوران ایک لاش برآمد ہوئی جس نے برقع پہن رکھا تھا۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگرد شہریوں میں چھپنے کے لیے خواتین کا بھیس اختیار کیے ہوئے تھے۔ ڈی پی او کے مطابق مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 6 ہو چکی ہے۔

فرار کی کوشش ناکام:

پولیس حکام کے مطابق آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے پر ایک اور دہشتگرد ہلاک کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ برقع پوش دہشتگردوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شدت پسند عناصر شہری آبادی میں چھپنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔

شہریوں کا انخلا اور جرگہ:

آپریشن کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی احمد زئی قبائل، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام کے درمیان جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں متاثرہ علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ضروری نقل و حرکت کی اجازت دینے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کے مطابق محدود نقل و حرکت کی اجازت دینے پر بھی غور جاری ہے۔

مزید پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی بنوں اور کرم میں کامیاب کارروائیاں، 13خوارج ہلاک

شہدا اور زخمیوں کے لیے معاوضہ:

کمشنر بنوں ڈویژن کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے 3 افراد کے لواحقین اور 4 زخمیوں کو سرکاری پالیسی کے تحت مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق علاقے میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بنوں اور گردونواح میں امن و استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top