بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان سے وابستہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے افواجِ پاکستان کے خلاف لانچ کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں بیک وقت کیے گئے حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ تمام متاثرہ علاقوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے منصوبے کو بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے تہس نہس کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور عوام ان حملوں سے محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: فورسز کی بروقت کارروائی، بی ایل اے کے حملے ناکام، متعدد دہشت گرد ہلاک
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، گوادر، پسنی، تربت اور دیگر علاقوں میں بیک وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے بروقت اور مؤثر ردعمل کے باعث بڑے نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوا اور حملہ آوروں کو پسپا کر دیا گیا۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے فوری جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ اس کارروائی میں ایف سی کے دستے بھی شامل تھے، جہاں چار دہشت گرد مارے گئے۔
نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائر ریڈ کی گئی، تاہم الرٹ فورسز کے بھرپور جواب کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔ دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن کیا گیا اور فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز پر حملہ کیا، جس پر سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کی پسنی میں واقع پوسٹ پر ہونے والا حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔ گوادر میں مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، تاہم پولیس اور ایف سی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔
بالچہ، تمپ، مستونگ، بیسیما، رودھبن، پھلاباد، گومزئی، مالانٹ اور کاسانو میں گرینیڈ حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، تاہم تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مختلف جھڑپوں میں مجموعی طور پر 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ خاران میں 6، دالبندین میں 5، مند میں 6 اور تربت میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق علی الصبح 12 مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 37 دہشت گرد مارے گئے جبکہ کارروائیوں کے دوران 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: ہر پاکستانی پر 3 لاکھ 33 ہزار قرض؟ فیکٹ چیک رپورٹ نے بھارتی دعویٰ جھوٹا ثابت کر دیا
حکام کے مطابق ان تمام دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث عناصر کو بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی اور افغانستان کے راستے سہولت فراہم کی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان پر بی ایل اے کے کنٹرول کے دعوے جھوٹ، من گھڑت اور سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا منظم پروپیگنڈا ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق بلوچستان کے تمام شہر بشمول کوئٹہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں، عوامی زندگی معمول کے مطابق جاری ہے اور سرچ و کلیئرنس آپریشنز بدستور جاری ہیں۔




