برمنگھم : جماعت اسلامی آزادکشمیر وگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر مشتاق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مراعات یافتہ طبقے کی مراعات کے خاتمے کے مطالبے کی کھل کر حمایت کرتی ہے جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے حوالے سے ہم نے اصلاحات کی بات کی ہے، ہم آج بھی عوامی حقوق کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
برمنگھم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اسمبلی ممبران کے ذریعے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے مقابلے میں ترقی فنڈز بلدیاتی اداروں کے ذریعے استعمال کرنے کی تجویز دی ہے ،اس سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اورفنڈز کا استعمال بہتر انداز میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے پر عملدرآمد تیز کیا جائے، امیر مقام ،ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کو پھر ساتھ بیٹھے کی دعوت
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مہاجرین کی نشستوں پر ہم نے اصلاحات کی بات کی 12 نشستوں میں بیشتر ایم ایل اے چند سوووٹ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں ۔
اس کے بجائے اگر آزاد کشمیر کے سب سے کم تعداد والے حلقے کے ووٹ کے برابر اگر مہاجرین کے حلقے بنا دیئے جائیں تو یہ 12 نشستیں کم ہو کر چار سے پانچ نشستوں تک محدود ہو جائینگی۔
ڈاکٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے مہاجرین کی نمائندگی برقرار رہے گی جبکہ فنڈز کا استعمال بلدیاتی منتخب نمائندوں کے ذریعے ہوگا تو مہاجرین ایم ایل اے کو فنڈز بھی نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا گزشتہ حکومت ہائبرڈ حکومت تھی جس میں جماعت اسلامی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتیں حکومت کا حصہ تھی یہ سب مل کر بھی عوامی مسائل کو حل نہ کر سکے۔
عوام اور حکومت کے درمیان اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والے جب نہیں رہے تو عوام نے متبادل کے طور پر اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا نتیجہ ہائبرڈ حکومت کا خاتمہ ہوا جبکہ عوام کو سیاسی جماعتوں اور ان کی لیڈر شپ سے اعتماد ختم ہوگیا۔
انہوں نے کہاکہ آمدہ انتخاب اسی نظریئے اور سوچ کی بنیاد پر ہوں گے جبکہ جماعت اسلامی عوامی حقوق تحریک کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی رہے گی ۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر مشتاق بیرون ملک روانہ، مشتاق خان ایڈووکیٹ قائم مقام امیر،شاہد حمید سیکرٹری جنرل مقرر
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی سوشل جسٹس کی بات کرتی ہے جس میں برادری قبیلے سے بالاتر ہو کے قومی سوچ کیساتھ ووٹ کے استعمال کی بات کی جاتی ہے
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کشمیریوں کا وکیل پاکستان ہے اور پاکستان کے اندر جو حالات پیدا کئے گئے ہیں وہ خود بڑے مسائل کا شکار ہے اس کے باوجود کشمیریوں کی آخری امید پاکستان ہی ہے۔




