امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی جانب بڑھنے سے سختی سے خبردار کرتے ہوئےکہا کہ امریکا تمام آپشنز استعمال کرنےکے لیے تیار ہے جبکہ ایران نے امریکی حملے پر تل ابیب کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی وزیر دفاع نےکہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا موقع تھا، ایران کو اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ محکمہ دفاع صدر ٹرمپ کی توقعات کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار ہے اور صدر ٹرمپ جو چاہیں گے پینٹاگون وہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک اور دھمکی،تہران کا بھی شدید ردعمل آگیا
یاد رہےکہ امریکا نے بحری بیڑہ مشرقی وسطیٰ میں تعینات کردیا ہے ۔ ایک روز قبل امریکی صدر نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئےکہا تھا کہ ایک بحری بیڑہ تیزی سے بھرپور طاقت اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سکرٹری علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا۔
علی شمخانی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں ایران فوری، جامع اور بے مثال ردعمل دے گا جس میں تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔
علی شمخانی نے یہ انتباہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں دیا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی حالیہ تعیناتی کے ردعمل میں تھا۔
علی شمخانی نے محدود فوجی حملے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی کارروائی کو جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے لکھا کہ ’محدود حملہ ایک خام خیالی ہے۔ امریکا کی جانب سے کسی بھی مقام اور کسی بھی سطح پر کی جانے والی فوجی کارروائی کو جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا اور اس کا جواب فوری، جامع اور بے مثال ہوگا جو تل ابیب کے قلب اور جارح کے تمام حامیوں کو نشانہ بنائے گا‘۔
یہ بھی پڑھیں: ایران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ڈونلڈٹرمپ کا دعویٰ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی فورسز کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور ایرانی فورسز کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔




