مظفرآباد: برطانیہ کے رکنِ پارلیمنٹ، ممتاز انسانی حقوق کے ماہر اور بین الاقوامی انصاف کے سرگرم علمبردار عمران حسین نے کہا ہے کہ کشمیر اور پاکستان میں تقریباً 12 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
جہاں محدود معاشی مواقع، بڑھتی مہنگائی اور بنیادی سہولیات تک ناکافی رسائی ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے آرفن ان نیڈ آزادکشمیر میں 12سو یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے، آزادکشمیر کے دورے کا مقصد یہاں پروگرام کو وسعت دے کر 2ہزار یتیم بچوں کو سپانسر شپ پروگرام میں شامل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیملی اسپانسرشپ ویزا، سزا معاف کرنے کی اطلاعات بے بنیاد قرار
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران حسین نے کہا کہ 14ممالک میں چالیس ہزار سے زائد یتیم بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔
ان بچوں کو رہائش صحت خوراک تعلیم سمیت بنیادی انسانی سہولیات فراہم کی ہیں اوورسیز کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان اور بالخصوص آزاد کشمیر کے مستحق، نادار اور یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور بہتر پرورش بین الاقوامی فلاحی ادارے آرفن اِن نیڈ کی ترجیحات میں سرفہرست ہےاور اس مشن کو پائیدار بنیادوں پر وسعت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف پسماندہ علاقوں میں مسلسل، منظم اور شفاف انداز میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے تاکہ معاشرتی محرومیوں کے خاتمے اور انسانی وقار کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عمران حسین نے کہا کہ بطور بیرسٹر اور انسانی حقوق کے ماہر، وہ برطانوی پارلیمنٹ میں بچوں کی غربت، چائلڈ لیبر کے خاتمے، سماجی تحفظ، قانونی امداد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اور توانا آواز بلند کر رہے ہیں۔
انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے عالمی سطح پر انصاف کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بین الاقوامی قانونی کوششوں میں شرکت ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے نے حالیہ دنوں میں مظفرآباد اور بہاولپور میں دو بڑے اور جامع فلاحی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ بہاولپور میں نادار خاندانوں کے لیے فوڈ پارسلز کی تقسیم جبکہ مظفرآباد میں کفالتِ اطفال کے منظم اور دیرپا پروگرام پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سینکڑوں بچوں کو تعلیم، صحت اور خوراک کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور کے سپیشل بچوں نے اولمپکس مقابلوں میں 8میڈلز جیت کر تاریخ رقم کردی
اس موقع پر ایک حوصلہ افزا مثال بیان کی گئی کہ ایک مستحق بچی، جو اسی کفالتی نظام کے تحت معاونت حاصل کر رہی تھی، آج ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت میں دی گئی مدد نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
اسی طرح ایک نہایت دردناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ آٹھ بہن بھائیوں پر مشتمل ایک خاندان، جن کی والدہ فالج کے باعث شدید علیل ہیں اور والد انتقال کر چکے ہیں، شدید کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور فوری امداد کا مستحق ہے۔
ادارے کے نمائندوں نے برطانیہ سے آنے والے وفد کی بے لوث خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران نہ صرف فنڈ ریزنگ کے مراحل مکمل کیے بلکہ جائزہ ٹیموں کے ذریعے مستحق خاندانوں کی شفاف جانچ پڑتال کو بھی یقینی بنایا، تاکہ امداد حقیقی حقداروں تک بلا امتیاز پہنچ سکے۔
اس موقع پر آرفن اِن نیڈ کے ہیڈ آف فنڈ ریزنگ الطاف حسین خان، اور کمیونٹی فنڈ ریزنگ کوآرڈینیٹر و رکنِ بورڈ آف ڈائریکٹرمزمل خان،پاکستان کنٹری ہیڈ محمد فیصل اسحاق بھی ہمراہ تھے۔




