بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ،دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں

مظفرآباد: بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف کشمیری عوام یوم سیاہ منارہے ہیںاور بھارت کے جارحانہ اقدامات کے خلاف احتجاج کیا جائیگا۔

آج پیر کے روز آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبان حریت اور دیگر کشمیری تنظیموں کے زیر اہتمام ریلیاں نکالی جائیں گی۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارت مخالف نعرے لگائے جائیں گے اور دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ بھارت جمہوری نہیں بلکہ جارح ملک ہے، جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر 78 برسوں سے غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن، یوم سیاہ پربرٹش کشمیریوں کابھارتی ہائی کمیشن کے باہربڑا احتجاجی مظاہرہ

کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران بھارت نے تقریباً 5 لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

آزادی کی تحریک میں حالیہ 36 برسوں کے دوران 96,481 کشمیری شہید ہوئے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم اور 22,000 سے زائد خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔

علاوہ ازیں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد تین دہائیوں کے دوران بھارت کی حراست میں رہے اور کھربوں روپے سے زائد مالیت کی املاک بھی تباہ کی گئی ہیں۔

کشمیری رہنماؤں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

یوم سیاہ منانے کے دوران کشمیری عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ بھارت سے کشمیریوں کو آزادی دلائی جائے اور اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیری عوام کے حق میں منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کرایا جائے۔

کشمیری رہنما واضح کرتے ہیں کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا اور بھارت کی غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔

ادھرصدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 26 جنوری کو یومِ سیاہ اس عزم کے ساتھ منا رہے ہیں کہ جدوجہدِ آزادی کو منزل تک جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ وادی میں محاصرے، پابندیوں اور شہری آزادی پر قدغنوں میں اضافہ ہوا، تاہم نڈر کشمیری عوام نے ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا۔

صدر ریاست نے کہا کہ اس موقع پر کشمیری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت کشمیریوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورتحال میں مسئلہ کشمیر مزید توجہ اور فوری مؤثر پیش رفت کا تقاضا کرتا ہے۔

وزیرِاعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ 26 جنوری کو بھارت کا یومِ جمہوریہ کشمیری عوام کے لیے یومِ سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنے خصوصی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل جبر، غیر جمہوری اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کیے گئے سخت قوانین اور پابندیاں جمہوری اقدار کی نفی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قوم کے ہیرو، کشمیری عوام کا خراج تحسین

وزیرِاعظم نے 5 اگست 2019ء کے بعد کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں مقبوضہ علاقے میں فوجی محاصرہ مزید سخت ہوا اور شہری آزادیوں پر غیر معمولی قدغنیں لگیں تاہم ہندوستان کی ہندوتوا پالیسی بھی کشمیری عوام کے غیر متزلزل عزم و استقامت کو کمزور نہ کر سکی۔

نکا کہنا تھا کہ کشمیری اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

Scroll to Top