واشنگٹن (کشمیرڈیجیٹل) امریکہ میں ایک غیر معمولی طلاق کے مقدمے نے سب کو حیران کر دیا، جہاں شوہر نے شادی کے دوران اپنی اہلیہ کو دیا گیا گردہ واپس لینے یا اس کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیویارک کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں فیصلہ دیا کہ انسانی اعضاء نہ تو ازدواجی ملکیت ہیں اور نہ ہی کسی مالی قیمت کے عوض واپس لیے جا سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قومی ٹیم کے 8 کھلاڑی 88 کروڑ ، سابق کرکٹر 90 کروڑ روپے سے محروم
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر رچرڈ بتسٹا نے 2001 میں اپنی اہلیہ ڈانیل کی جان بچانے کیلئے اپنا گردہ عطیہ کیا تھا۔
بعد ازاں جب دونوں کے درمیان شادی ختم ہوئی تو ڈاکٹر بتسٹا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ گردہ ایک مشروط تحفہ تھا جو کامیاب ازدواجی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی لیپہ ، گھر کی چھت گرنے کے باعث اہل خانہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے
ان کا کہنا تھا کہ طلاق کی صورت میں یا تو گردہ واپس کیا جائے یا اس کی مالی قیمت ادا کی جائے۔شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت ڈیڑھ ملین ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کردی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔
عدالت کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ انسانی اعضاء کو ازدواجی اثاثہ یا مشروط تحفہ نہیں سمجھا جا سکتا اور طلاق کے بعد ان کی واپسی کا مطالبہ غیر قانونی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت، جائیداد ہتھیانے کیلئے 5 شادیاں کرنیوالی لٹیری دلہن کو2سال قید کی سزا
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ انسانی اخلاقیات، طبی اصول اور ازدواجی تنازعات کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
عدالت نے انسانی وقار اور اخلاقی اقدار کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلہ دیا جس سے یہ واضح ہوا کہ انسانی اعضاء کو مالی مفاد یا ازدواجی تعلقات کیلئے بطور ملکیت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔




