لاہور، اسلام آباد: پاکستان کے قومی کرکٹرز ایک بڑے مالی فراڈ کا شکار ہو گئے ہیں، جس میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ قومی ٹیم کے 8 کھلاڑی تقریباً 88 کروڑ روپے جبکہ ایک سابق کرکٹر تقریباً 90 کروڑ روپے سے محروم ہو گئے ۔
بتایا گیا ہے کہ یہ فراڈ ایک کاروباری شخصیت نے کیا، جو بھاری رقم ہڑپ کرنے کے بعد پاکستان سے فرار ہو گئی۔ کرکٹرز نے اس کاروباری شخص کیساتھ سرمایہ کاری کی، بعض کھلاڑیوں نے سابق کپتان کی موجودگی میں سرمایہ لگایا جبکہ کچھ نے براہِ راست اس شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں ڈبل وکٹ میچ، پاکستان نے بھارت کو شکست دیدی
متاثرہ کھلاڑیوں میں سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام شامل ہیں اور ایک معروف کرکٹ ایجنٹ بھی اس فراڈ میں اپنی رقم سے محروم ہو گیا ۔ ابتدائی طور پر کرکٹرز کو غیر معمولی منافع بھی ملتا رہا، لیکن بعد میں کاروباری شخص اچانک منظر سے غائب ہو گیا ۔ کھلاڑیوں نے کئی ہفتوں تک رابطے کی کوششیں کیں، جن میں کچھ کو جزوی رقم واپس بھی ملی، مگر گزشتہ دو ماہ سے کسی قسم کی ادائیگی نہیں ہوئی ۔
ذرائع کے مطابق یہ کاروباری شخص امریکا میں مقیم ہے اور اس کے کئی پاکستانی کرکٹرز سے ذاتی تعلقات تھے ۔ متاثرہ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس کا فون بند ہے اور اس سے رابطہ ممکن نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم کا بگ بیش لیگ کا سفر اچانک ختم، وجہ سامنے آگئی
فی الحال کرکٹرز نے اس فراڈ کی باضابطہ شکایت کسی پلیٹ فارم یا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں درج نہیں کرائی ۔ تاہم چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے متاثرہ کھلاڑیوں سے رابطہ کر کے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ کرکٹرز نے چیئرمین کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا ۔




