بورڈ آف پیس فورم فلسطین،کشمیر اور ایران کیخلاف اقدامات پر آواز بلند کرےگا،مشاہد حسین سید

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)معروف سیاستدان اور تجزیہ نگار چیئرمین پاکستان چائینا انسٹی ٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صرف پاکستان کا نہیں تھا بلکہ شرم الشیخ میں شامل آٹھ ممالک کا یہ مشترکہ فیصلہ تھا۔

ان آٹھ ممالک میں پاکستان ،ترکی،انڈونیشیا، سعودی عربیہ،یواے ای ، مصر، قطریہ سارے شامل ہیں۔جنہوں نے یہ مشترکہ فیصلہ مکمل مشاورت کے بعد کیا ہے ۔پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومتی انتقامی کارروائیاں،ن لیگی رہنما چوہدری محمدرزاق کا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ آف پیس غزہ تک محدود نہیں ہے ۔ایک تو اقوام متحدہ کے متبادل نہیں ہے ۔آج ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہم ملکر کام کریں گے ۔

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم عالمی امن کیلئے ہوگا۔ پاکستان کو ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے ، آپ اپنا موقف پیش کریں ۔جو پاکستان کا فلسطین ، فلسطینیوں کے حق خود ارادیت ،فلسطینی ریاست پراور کشمیر پر دیرینہ موقف ہے وہ فورم میں لائیں گے ۔

غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ 8 مسلم ممالک نے اجتماعی طور پر اس فورم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:یوم کشمیر5فروری،پنجاب حکومت کا 4تعطیلات کا اعلان متوقع

یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کا متوازی ڈھانچہ نہیں بلکہ اس کا دائرۂ کار صرف غزہ تک محدود ہونے کے بجائے بین الاقوامی تنازعات کے حل تک پھیلا ہوا ہے۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:سرکاری ملازمت کا حصول آسان، تھرڈ پارٹی ایکٹ بحال

اسی پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق میں مؤثر آواز اٹھا سکتا ہے اور ایران کے خلاف جاری جارحیت پر ماضی کی طرح اب بھی مخالفت کرسکتا ہے۔

Scroll to Top