اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)کشمیرڈیجیٹل کی تنقید پر بالآخر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حریتِ رہنما یاسین کی رہائی ، کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل عام کیخلاف 27 جنوری کو مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا ہے ۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق کمیٹی یاسین ملک کی رہائی کیلئے مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے دفتر میں اپنا احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 جنوری کو جہاں ممکن ہو سکے ہندوستانی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کریں۔
آزادکشمیر بھر میں عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے سرگرم عمل ہے تاہم مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور کشمیری رہنمائوں کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت جیل میں قید کشمیریوں کیلئے ابھی تک کوئی آواز بلند نہیں کی گئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت : پی ٹی آئی کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب،حقائق سامنے آگئے
گزشتہ دنوں کشمیر ڈیجیٹل فورم کی جانب سے تحریک آزادی کشمیر اور کشمیری رہنمائوں کی بھارت کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہونے پر عوامی ایکشن کمیٹی کی خاموشی پر سوال اٹھائے گئے ۔
عوامی ایکشن کمیٹی بھارتی جیل میں قید یاسین ملک،آسیہ اندرابی اور دیگر کی رہائی کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھا رہی؟کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں نوشین خواجہ کے سوال پر کشمیری رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آزادکشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ تھا مگر اسے غیر فعال کردیا گیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی گاڑی حادثے کا شکار ،افسر سمیت 10 اہلکار ہلاک
عوامی ایکشن کمیٹی ممبرا ن تو عوامی مسائل حل کیلئے قومی آواز کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر آج تک حریت رہنما یٰسین ملک سمیت کسی بھی کشمیری رہنما کی رہائی کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کے فورم سے صدائے احتجاج بلند نہیں کی گئی جو کہ ایک قومی المیہ ہے ۔
دوسری جانب آزادکشمیر کے شہریوں نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے اس رویئے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج اور چارٹڈ آف ڈیمانڈ میں یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت کشمیری اسیر رہنمائوں کی رہائی کیلئے بھی آواز بلند کریں۔
شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر میں جہاں آئے روز احتجاج ہوتے ہیں مگر افسوس کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک آسیہ اندرابی و دیگر پابند سلاسل کشمیری رہنمائوں خواتین کی رہائی کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔




