جویریہ زبیر بخاری کیس میں اہم پیشرفت، 2 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

ضلعی فوجداری عدالت جہلم ویلی نے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری بجرائم اے پی سی 34,109,302 کی سماعت مکمل کرتے ہوئے درخواست ضمانت مسترد کردی۔

ضلع قاضی ضیاء الرحیم نے ملزمان عاقب منیر،لبید منیر پسران محمد منیر ساکنان قاضی آباد کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست ضمانت قبل از گرفتاری کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے جویرہ زبیر بخاری کی موت کو خودکشی کے بجائے طٹی قرار دیا اس طرح بادی النظر میں یہ مقدمہ قتل کا مقدمہ بنتا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت کے مرحلہ پر گہرائی سے ریکارڈ کا ملاحظہ کرنا منشائے قانون نہ ہے کیونکہ گہرائی سے ریکارڈ کا ملاحظہ کرنے سے کسی ایک فریق کا مقدمہ تعصب کا شکار ہوسکتا ہے اس لیے پولیس ریکارڈ پر موجود مواد کا طائرانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جویریہ زبیر قتل کیس،7 نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج، رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش

ریکارڈ پر موجود ضمنی نمبر 11 جس میں ملزم عاقب کا اظہار موجود ہے کا بھی ملاحظہ کیا گیا ہے، ملزم نے بھی اظہار کررکھا ہے کہ جویریہزبیر بخاری کے والد زبیر بخاری کی وجہ سے جس نے عافیہ کیخلاف الزام لگائے تھے ہمارے گھر کے حالات خراب تھے جس باعث یہ وقوعہ رونما ہوا ہے۔

مزید یہ کہ بوقت وقوعہ ملزم کا موقع پر ہونا اور عافیہ کا موقع پر ہونا بھی پایا گیا ہے جس سے ملزمان بادی النظر میں جرائم سے منسلک دکھائی دیتے ہیں اور جرم 302 اے پی سی جوکہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔

عدالت نے کہا کہ ابھی تک ملزمان کا مکمل چالان بھی پیش نہ ہوا ہے ، اس مرحلہ پر ملزمان رعایت ضمانت کے مستحق نہ دکھائی دیتے ہیں۔

فاضل کونسل ملزمان کی جانب سے پیش کردہ قانونی حوالہ جات مقدمہ ہذا کے حالات پر منطبق نہ ہوتے ہیں لہذا بحالات بالا درخواست ضمانت سائلان ملزمان مسترد کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ جہلم ویلی پولیس نے جویریہ جس کو مبینہ طور پرسسرالیوں نے قتل کیا تھا کے کیس کی فائل خودکشی قرار دے کر بند کردی تھی جس پر جویریہ کے والد نےہائیکورٹ سے رجوع کیاجس پر ہائیکورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نیلم ، کمسن بہنوں کو اغواء کرنے والے ملزم کو عمرقید،20لاکھ جرمانے کی سزا 

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھورنے جویریہ زبیر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دینے والے پولیس اور پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹر زکیخلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

Scroll to Top