ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرمد، تاخیر نہیں کی،ریاست افراتفری کی متحمل نہیں ہوسکتی، وزیراعظم فیصل راٹھور

چڑہوئی :وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کئے گئے اور ان پرعملدرآمد میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی گئی۔

عوامی مسائل کے حل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ نظام عوامی اعتماد کا مظہر ہے اور ریاست کسی بھی صورت افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نےچوک صاحباں میں رورل ہیلتھ سنٹر کا افتتاح کر دیا

چڑہوئی میں جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چڑہوئی سمیت مختلف مقامات پر عوام کی جانب سے ملنے والا شاندار استقبال موجودہ سیاسی نظام، پاکستان پیپلزپارٹی اور صدر جماعت آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین پر بھرپور اعتماد کا عملی اظہار ہے۔

پوری ریاست میں سیاسی نظام بحال ہوچکا ہے اور عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں پیپلزپارٹی کی قیادت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر مکمل اعتماد ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست اور سیاست کو افراتفری سے بچانے کے لیے پیپلزپارٹی نے مشکل مگر جرات مندانہ فیصلے کرتے ہوئے حکومت سنبھالی۔ صرف 2ماہ کے قلیل عرصہ میں وہ اقدامات کئے گئے جو برسوں میں ممکن نہ ہو سکے۔

کشمیر بینک کو شیڈولڈ بنک بنانے کا عمل آخری مراحل میں ہے، آزاد کشمیر بھر میں عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ کا آغاز کر دیا گیا ہے، تینوں ڈویژنز میں الگ الگ تعلیمی بورڈز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر وہ قدم اٹھایا جو براہ راست عام آدمی کے مفاد میں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگرچہ یہ ذمہ داری آسان نہ تھی، مگر پیپلزپارٹی نے عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اسے قبول کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ایک ٹرائل ہے، اصل آغاز 2026 کے انتخابات کے بعد ہوگا اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر حکومت بنا کر دکھائے گی۔ پیپلزپارٹی نے جب بھی اقتدار سنبھالا، کارکردگی سے اپنی صلاحیت ثابت کی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ہمیں اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کا گل پور میں عوام نے پرتپاک استقبال کیا

انہوں نے کہا کہ صرف دو ماہ کے اندر عام آدمی کو وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ تک براہ راست رسائی دی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعی عام آدمی کی حکومت ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر ٹی ایچ کیو چوک صاحباں اور چڑہوئی گریڈ اسٹیشن کی فزیبلٹی رپورٹ بنانے، ایجوکیشن پیکیج متعارف کرانے، یونیورسٹی کیمپس کے قیام، مختلف تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، بی ایچ یو جونا اور راجدھانی کو آر ایچ سی کا درجہ دینے، جونا ڈونگی روڈ کی ری کنڈیشنگ اور کوٹلی یونیورسٹی کے چڑہوئی کیمپس کے قیام کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کے اعلانات بھی کئے۔

یاد رہے کہ جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے مطالبات پر عملدرآمدنہیں کیا گیا پر جس پر حکمت عملی طے کرنے کیلئے اجلاس بھی بلائے گئے ہیں۔

Scroll to Top