اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کیلئے مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ اجرا کردیا۔
وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں میں وزیراعظم صحت کارڈز بھی تقسیم کیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالر کو رقم جوتوں میں چھپا کر ایمرجنسی 15 پر کال مہنگی پڑ گئی
وزیراعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے اور حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے، صحت ہوگی تو تعلیم، کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ممکن ہوگی، اشرافیہ تو بیرون ملک مہنگا علاج کرواسکتی ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:سلطنت عثمانیہ کا وہ آخری چشم وچراغ جس کا تابوت ضبط کرلیا گیا تھا
مگر عام آدمی، مزدور اور غریب طبقے کے لیے علاج ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجرا کی تجویز قابل غور ہے
وزیراعلیٰ سندھ سے بات کر کے اس حوالے سے حل نکالا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کو بھی یہ سہولت میسر ہو، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں صحت سے متعلق پروگرام کامیابی سے جاری ہیں اور اربوں روپے عوامی صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر آزادکشمیر کے باشندوں کے لیے علیحدہ کاؤنٹر قائم
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی صحت کی مفت سہولیات سے مستفید ہوں گے۔
اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کو علاج کی مفت سہولت میسر ہوگی، ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی بیماریوں کے باعث خطِ غربت تک پہنچ چکے ہیں، اب کسی غریب کو اپنے خاندان کے علاج کیلئے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسمارٹ فونز کی بڑھتی قیمتیں، چینی کمپنیوں نے بھی پالیسی تبدیل کر دی
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لوگوں کو علاج کے لیے گھر کے برتن اور زیور نہیں بیچنے پڑیں گے، کوئی بچہ غربت کی وجہ سے علاج سے محروم نہیں رہے گا، ایک ہزار سے زائد نجی اور سرکاری اسپتال ہیلتھ کارڈ کے پینل پر موجود ہیں، وزیرِاعظم پاکستان کی دوراندیش قیادت میں اب کوئی ماں علاج کے اخراجات کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگی، ایمرجنسی ہو یا بڑا آپریشن، ہر مریض کو عزت اور سہولت کے ساتھ مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔




