سہیل آفریدی کا افغان دہشتگردی پرثبوت مانگنا پاکستان سے بڑی بددیانتی ہے،عمرچیمہ

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینئر صحافی عمر چیمہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے افغانستان کے حق میں بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اب تک سہیل آفریدی کے بیان کو ہضم نہیں کر پا رہا کہ یہ بات وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کی طرف سے سامنے آئی ہے۔

سینئر صحافی عمر چیمہ نے اینکر سے کہا کہ آپ نے سہیل وڑائچ سے سوال کیا تھا کہ کیا یہ ان کی حکمتِ عملی ہے؟ میں صاف کہتا ہوں کہ یہ کوئی حکمتِ عملی نہیں، یہ محض کم عقلی ہے اور اگر کم عقلی نہیں تو پھر یہ بددیانتی ہے، جو ایک انتہائی سنگین مذاق کے مترادف ہے۔

افغانستان سے دہشتگردی کے ثبوت مانگنے کا بیان ایک غیر سنجیدہ شخص کی عکاسی کرتا ہے۔ آج سہیل آفریدی نے جو بیان دیا اس نے ثابت کر دیا کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیںہیں اور اس ذمہ داری کیلئے ابھی تک تیار نہیں ہیں۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں بریفنگ نہیں دی گئی، فلاں بریفنگ نہیں دی گئی۔ میرے خیال میں انہیں اپنے آئی جی سے پوچھ لینا چاہیے، اپنے کسی ڈی پی او سے پوچھ لیں۔

ساری دنیا جانتی ہے کہ دہشتگرد افغانستان سے آتے ہیں، سہیل آفریدی افغان حکومت کا ترجمان بنا ہوا ہے،وزیراعلیٰ کے پی کا افغان دہشتگردی پر ثبوت مانگنا پاکستان سے بڑی بددیانتی ہے

آج ضلع ٹانک کے علاقے میں ان کے اپنےہی پولیس اہلکاروں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا ہے اور پولیس اہلکار دہشتگردانہ حملے میں شہید ہوگئے ۔ وہاں کے ڈی پی او سے پوچھ لیں کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، وہ خود بتا دے گا۔

یہ بیان نہایت غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اب اس بات پر کون سا ابہام باقی رہ گیا ہے کہ یہ دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں؟ اگر یہ افغانستان سے نہیں آتے، تو پھر یہ بتائیں کہ جب آپ کی وفاقی حکومت تھی تو آپ کس بنیاد پر اس بات پر اڑے ہوئے تھے کہ ہم انہیں واپس پاکستان نہیں آنے دیں گے؟

یہ ضد تو وہی شخص دکھاتا ہے جو کسی ذاتی مفاد یا تعصب کا شکار ہو، اور بدقسمتی سے یہ سہیل آفریدی کی ایک نمایاں صفت بن چکی ہے۔ وہ مسلسل اس مؤقف پر قائم تھے کہ ان دہشت گردوں کو پاکستان واپس نہیں آنے دینا۔

اب یہ کہتے ہیں کہ افغانستان کو شواہد دیئے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ افغانستان کے ترجمان ہیں یا پاکستان کے؟ یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ شخص خیبر پختونخوا کا وزیرِاعلیٰ ہے وہ صوبہ جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

اس صوبے کا وزیرِاعلیٰ یہ کہہ رہا ہے کہ افغانستان کو ثبوت دیں کہ دہشتگردی ہو رہی ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ دہشت گردی افغانستان سے نہیں ہو رہی، تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے۔

پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اندر سے ہو رہی ہے تو کون کر رہا ہے؟ کون سرپرستی کر رہا ہے؟ کون سہولت کاری کر رہا ہے؟ جب ان کے اپنے ترجمان شفیع جان ایک پروگرام میں بار بار ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور صاف جواب دینے سے انکار کرتے ہیں تو تب انسان کو وہ باتیں یاد آتی ہیں جو پہلے عجیب لگتی تھیں۔۔

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ لیکن اب سمجھ آنے لگی ہیں کہ ٹی ٹی پی ان کی عسکری وِنگ ہے۔ جس طرح یہ لوگ ان کیلئے نرمی دکھاتے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں، کتنے معصوم بچے جان سے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود وزیرِاعلیٰ اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔
افغانستان کے حق میں بیان انتہائی شرمناک،سہیل آفریدی غیر سنجیدہ ، وزارت اعلیٰ کا اہل نہیں، یہ انتہائی غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت بات ہے۔

میرے خیال میں اس بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اس پر وزیرِاعلیٰ سے باقاعدہ محاسبہ ہونا چاہیے، اور ان سے مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنا یہ بیان واپس لیں۔

سیاست اس سطح تک نہیں گر سکتی۔ یہ نہایت گھٹیا قسم کی سیاست ہے کہ اتنے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کیا جائے۔

خاص طور پر ایسے صوبے کا وزیرِاعلیٰ، جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہو، اس قسم کی باتیں کرے ،یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

یہ بیان کسی چیف منسٹر کو سوٹ نہیں کرتا، کسی ایم پی اے کو بھی سوٹ نہیں کرتا۔ یہ وہ شخص ہے جو خود ایسے علاقے سے منتخب ہو کر آیا ہے جہاں بڑی تعداد میں شدت پسند موجود ہیں، جہاں ابھی بھی آپریشن ہو رہے ہیں، اور اس کے باوجود اس نوعیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک اور قابلِ مذمت رویہ ہے۔

اسمبلی کو چاہیے کہ اس معاملے پر اجلاس بلائے۔ اگر واقعی سنجیدگی دکھانی ہے تو کور کمانڈر کو ان کیمرا بریفنگ کے لیے بلانے سے پہلے وزیرِاعلیٰ سے پوچھا جائے کہ آپ کے پاس کیا معلومات ہیں؟

اپنے آئی جی، ڈی پی اوز اور سی ٹی ڈی چیف کو ساتھ لے کر آئیں اور واضح کریں کہ اگر دہشت گردی افغانستان سے نہیں ہو رہی تو کیا پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے؟ اور اگر اندر سے ہو رہی ہے تو پھر ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟ سہولت کاری کون کر رہا ہے؟

افغانستان سے دہشتگردی نہیں ہورہی تو پھر ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا، عمرچیمہ

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان سے دہشتگردی نہیں ہورہی تو پھر ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا۔ اس بیان پر وضاحت طلب کرنا ناگزیر ہے۔

یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر اس طرح کے بیانات یونہی چلتے رہے تو یہ ایک خطرناک بیانیہ بن جائے گا۔

Scroll to Top