اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سینئر صحافی وکالم نگار سہیل وڑائچ نے نجی ٹی وی کے پروگرام پوڈ کاسٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی ریاست کی چند بنیادی شرائط ہوتی ہیں۔
اگر ریاست موجود نہ ہو، اگر اس کی فوج نہ ہو، تو نہ اس ملک میں جمہوریت آ سکتی ہے، نہ سیاسی جماعتوں کا وجود قائم رہ سکتا ہے، اور نہ ہی سیاست ممکن ہوتی ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیںاُن میں ہمیشہ پوری اپوزیشن ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ دہشت گردی بھی دراصل ایک جنگ ہی ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی اس معاملے پر کیوں اَڑ گئی ہے، حالانکہ میرے علم میں ہے کہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ نقصان بھی پی ٹی آئی ہی کو ہوا ہے، خصوصاً افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کے معاملے میں۔
خیبر پختونخوا میں انہیں خود شدید مسائل کا سامنا رہا ۔ سوات سے مراد صاحب ہوں یا دیگر رہنما، ہر آل پارٹیز کانفرنس اور ہر کمیٹی میٹنگ میں یہی بات زور دے کر کہی جاتی رہی ہے لیکن اب چونکہ انہیں یہ مؤقف سیاسی طور پر سوٹ کرتا ہے اس لیے انہوں نے ایک مختلف بیانیہ اپنا لیا ہے۔
میری عمران خان صاحب سے بھی اس حوالے سے کھل کر بات ہوئی تھی، اور اُس گفتگو میں انہوں نے خود اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ طالبان کی دہشت گردی کا مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہوگا۔
میرا خیال ہے کہ جن بنیادی نکات پر قومی اتفاقِ رائے موجود تھا، اُن سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہ تمام فیصلے تمام قومی و سیاسی جماعتوں نے مل کر کیے تھے کہ اگر اس نوعیت کا دہشت گردی کا مسئلہ ہوگا تو ہم سب اکٹھے ہوں گے، اور جب ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے گی تو ہم سب اس کا ساتھ دیں گے۔
میرا خیال ہے کہ اس معاملے پر پی ٹی آئی اپنا راستہ مزید مشکل بنا رہی ہے۔ پہلے ہی 9 مئی کی سنگین غلطی کا اعتراف نہ کرنا اور اس کا مداوا نہ کرنا ان کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔
یہ رویہ دانش مندی کا مظہر نہیں ہے۔ اگر وہ عقل، فہم اور ماضی کے تجربات سے سیکھ لیں تو شاید انہیں کوئی بہتر راستہ نظر آ جائے۔
سوال یہ ہے کہ وہ پہلے ہی ایک بحران میں ہیں، اور اس بحران کو مزید بڑھانا کسی طور ان کے مفاد میں نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اسے کم کریں۔ خاص طور پر وہ ریاستی بیانیہ جس پر وہ خود دستخط کر چکے ہیں۔
جس پر خود میٹنگیں کر چکے ہیں، اور جس کے تحت ان کے دورِ حکومت میں بھی آپریشن جاری رہے،اب آخر ایسا کیا بدل گیا ہے کہ وہ اس سے انحراف کر رہے ہیں؟
میرا خیال ہے کہ انہیں اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، کیونکہ ریاست تو بہرحال کارروائی کرے گی۔ یہ ممکن نہیں کہ دہشت گرد حملے کرتے رہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی رہے۔
یہ عمل تو چلتا رہے گا۔ آخرکار یا تو انہیں خود پیچھے ہٹنا پڑے گا، یا پھر اپنی پالیسی میں ترمیم کرنا ہوگی۔




