برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیاں، کتنے لاکھ تارکین متاثر ہوں گے؟

برطانیہ میں 2026 میں نئے امیگریشن قوانین نافذ ہونے جا رہے ہیں جو ویزہ کے نظام میں برسوں کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہوں گے۔

یاہو نیوز کے مطابق امیگریشن کو کم کرنے کے منصوبے کے تحت ویزے میں تبدیلیاں ہوں گی جن میں غیرملکی کارکنوں کے لیے انگریزی زبان کی ضروریات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک جانیوالوں کیلئے خوشخبری، فوری امیگریشن کیلئے آفس قائم

یہ اقدامات مئی میں حکومت کے امیگریشن وائٹ پیپر میں بیان کئے گئے تھے جن کا مقصد کچھ تارکین وطن کے لیے برطانیہ آنا مشکل بنانا ہے۔

8 جنوری 2026 سے بہت سے تارکین وطن کو نئے سخت قوانین کے تحت اے لیول کے معیار کے مطابق انگریزی بولنا ہوگی۔

یہ تبدیلی گریجویٹس اور ان افراد کو متاثر کرے گی جو ہنرمند ورکر یا سکیل اپ ویزہ کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔

پہلے بی 1 لیول کی ضرورت تھیلیکن اب منظوری کیلئے کسی شخص کو بی 2 لیول انگریزی کا مظاہرہ کرنا ہوگاجو اپرانٹرمیڈیٹ یا اے لیول کے معیار کے برابر ہے۔

یہ نیا قانون صرف نئے پہلی بار درخواست دینے والوں پر لاگو ہوگا۔ موجودہ ویزہ ہولڈرز جو برطانیہ میں قیام کی اجازت بڑھا رہے ہیں، انہیں زیادہ ضرورت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ اقدام پہلی بار اکتوبر میں وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ اس ملک میں آتے ہیں تو آپ کو ہماری زبان سیکھنا ہوگی اور اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ ناقابل قبول ہے کہ تارکین وطن ہماری زبان سیکھے بغیر یہاں آئیں اور روزمرہ زندگی میں حصہ ڈالنے کے قابل نہ ہوں۔

حکومت کی امیگریشن اصلاحات کے مرکز میں ایک نیا ’ارنیڈ سیٹلمنٹ‘ ماڈل کا تعارف ہے، جو اس بات کو تبدیل کرے گا کہ تارکین وطن برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے کیسے اہل ہوں گے۔

ہوم آفس نے اس سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین کے لیے اہل ہونے کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر 10سال کر دی جائے گی لیکن کچھ افراد کو 20 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ اقدامات ان اندازاً 26 لاکھ افراد پر لاگو ہوں گے جو 2021 سے برطانیہ آئے ہیں، تاہم جن افراد نے پہلے ہی سیٹلمنٹ حاصل کر لی ہے، ان پر اثر نہیں پڑے گا۔

سیٹلمنٹ یا انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین کسی کو برطانیہ میں مستقل رہنے، کام کرنے اور عوامی خدمات تک بغیر پابندی رسائی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ برطانوی شہریت حاصل کرنے کی طرف ایک اہم قدم بھی ہے۔

قانونی تارکین وطن جو 12 ماہ سے کم عرصے کے لیے بینیفٹس کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں سیٹلڈ سٹیٹس کے لیے 15 سال انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ جو زیادہ عرصے تک بینیفٹس پر انحصار کرتے ہیں انہیں 20 سال انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کا مطالبہ کردیا

وہ افراد جو پوسٹ بریگزٹ ہیلتھ اور سوشل کیئر ویزہ پر آئے ہیں، انہیں بھی 15 سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جو پہلے پانچ سال تھا۔

یہ تبدیلیاں فروری میں حکومت کی مشاورت کے بعد نافذ ہوں گی۔ توقع ہے کہ یہ تبدیلیاں بہار 2026 سے نافذ ہوں گی۔

Scroll to Top