راولپنڈی : اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنمائوں اورکارکنوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کے بعد پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد ازاں چکری کے قریب رہا کردیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے تاہم جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہیں دی جس پر کارکنان اور مظاہرین نے احتجاج شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کی شکایت پر وکلاء آپس میں لڑ پڑے،انصاف لائرز فورم کے صدر احتجاجاً مستعفی
ذرائع کے مطابق مظاہرین نے کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی، وہ یہی دھرنا جاری رکھیں گے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔
اس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے فوری اثر سے کارکنان جگہ چھوڑ کر چلے گئے۔
مظاہرین کے پاس برساتی اور شاپر بیگ بھی تھےجنہیں انہوں نے اپنے سروں پر باندھا ہوا تھا اور کہا کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں لیکن واٹر کینن کے استعمال پر چلتے بنے۔
اسی دوران پولیس نے عمران خان کی بہنون علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، ایم پی اے تنویر اسلم اور دیگر کو بھی حراست میں لے لیا جنہیں رات گئے چکری میں چھوڑ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جو مذاکرات کی بات کرے وہ عمران خان کا ساتھی نہیں، علیمہ خان
واٹر کینن کے ایک وار کے بعد پی ٹی آئی کارکنان منتشر ہو گئے اور پولیس نے میدان مکمل طور پر سنبھال لیا۔حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
یہ مظاہرہ اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی کشیدگی اور سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد پیش آیا، اور پولیس نے بروقت کارروائی کر کے صورتِ حال پر قابو پا لیا۔




