سہانے خواب، باغ کا نوجوان لاکھوں روپے لگا کر انسانی سمگلرز کے چنگل میں پھنس گیا

اسلام آباد؛آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں انسانی سمگلرز کا ہولناک کھیل بے نقاب ہو گیا، جہاں سادہ لوح نوجوانوں کو روشن مستقبل کے سبز باغ دکھا کر بیرونِ ملک لے جانے اور پھر دھوکہ دہی سے فروخت کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق باغ سے تعلق رکھنے والے عبدالرؤف ولد عبداللطیف کو بہتر روزگار کا جھانسہ دے کر کموڈیا بھجوایا گیا۔

انسانی سمگلرز نے ورک ویزے کے نام پر متاثرہ خاندان سے 30لاکھ روپے وصول کئے تاہم بعد ازاں وزٹ ویزے پر کموڈیا پہنچا کر عبدالرؤف کو سمگلرز کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا۔

عبدالرؤف کے بھائی عبدالحمید نے اسلام آباد مین میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شفیق نامی شخص کے مطابق بیرون ملک مقیم کمبوڈیا حسین شاہ سے ورک پرمٹ کے نام پر بھاری رقم وصول کی اور عبدالرؤف کو بیرونِ ملک بھجوا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں انسانی سمگلرز کیخلاف ایکشن کی تیاری،ادارے سرگرم ہیں، ڈی سی بھمبر

وہاں پہنچتے ہی اسے غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک منظم سمگلنگ نیٹ ورک کے حوالے کر دیا گیا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایجنٹوں نے عبدالرؤف کو واپس لانے یا ورک پرمٹ دلوانے کے نام پر مزید رقوم بھی وصول کیں، مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

عبدالحمید کا کہنا ہے کہ شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کے باعث عبدالرؤف کی ذہنی حالت بگڑ چکی ہے اور اب اس کا گھر والوں سے رابطہ بھی منقطع ہے۔

متاثرہ خاندان کا ایجنٹ کیساتھ 13لاکھ روپے ادائیگی کا اسٹام بھی موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی رقم اکٹھی کی گئی ہےمگر نوجوان واپس نہیں لا یا جا سکا۔

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے اور عبدالرؤف کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔

Scroll to Top