اسلام آباد( عامر اقبال ہاشمی )سابق وزیر حکومت وسینئر سیاستدان سردار میر اکبر کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر سردار میر اکبر اور مسلم لیگ(ن) دونوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز وزیرا مور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی موجودگی میں سردار میر اکبر نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو جھٹکا، سردار میر اکبر مسلم لیگ نواز میں شامل
سردار میر اکبر کی شمولیت پر صحافیوں کی طرف سے لیگی قیادت سمیت سردار میر اکبر کو سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سردار میر اکبر الیکشن کے قریب جا کر پارٹیاں تبدیل کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں، گزشتہ دونوں الیکشن میں انہوں نے عین موقع پر اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کیا تھا۔
2016 کے الیکشن میں سردارمیر اکبر حلقہ شرقی باغ سے مسلم کانفرنس کے امیدوار تھے جب انہیں لگا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت بننے جا رہی ہے تو سردار میر اکبر نے مسلم کانفرنس کا ٹکٹ واپس کرکے مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوگئے اور ٹکٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کرلی۔
2021کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کاٹکٹ واپس کرکے پی ٹی آئی جوائن کی اور حلقہ میں معمولی سی برتری سے سردار قمرالزمان کو شکست دے کر پی ٹی آئی کی حکومت میں وزیر بن گئے۔
پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنا تو اس میں شامل ہو گئے اور دوبارہ وزیر بن گئےاور اب وہ مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔سردار میر اکبر کیخلاف الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ بھی آیا تھا جس میں دھاندلی پرالیکشن کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
سردار میر اکبر کی شمولیت پر سوشل میڈیا پر مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے سابق تقاریر وائرل ہیں جوانتہائی سخت الفاظ کا استعمال کررہے تھے، ان میں مریم نواز کی تقریر کا ایک کلپ بھی وائرل ہے لیکن سیاست بے رحم کھیل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شرقی باغ میں میر اکبر کی کامیابی کالعدم، دھاندلی ثابت
سابق وزیر حکومت مشتاق منہاس کی ایک تقریر کا کلپ بھی وائرل ہیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کا ٹکٹ واپس کرنے والے کی مسلم لیگ میں واپسی کسی صورت ممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سابق دور میں مسلم لیگ(ن) کے ممبران اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا کہ ہم پارٹی نہیں چھوڑیں لیکن قریبی عزیز کاانتقال ہونے کی وجہ سے سردار میر اکبراس حلف میں بچ گئے تھے جبکہ دو ممبران حلف اٹھانے کے باوجود پارٹی چھوڑ گئےتھے۔
یہ بھی پڑھیں:سماہنی : سیاسی جوڑ توڑ ،سابق امیدوار اسمبلی چوہدری محمد رزاق کی ن لیگ میں شمولیت کا امکان
حیران کن طور پر مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے گھر جا کر سردار میراکبر کو مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کی دعوت دی جس پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اس کو نظریاتی کارکنوں کی حق تلفی قرار دے رہے ہیںکہ مشکل وقت میں چھوڑ کر جانے والوں کو ٹکٹ دینے کا لالچ دے کر واپس کیوں لایا جا رہا ہے لیکن مسلم لیگ(ن) کو سردار میر اکبر کی شکل میں اپنی نشست نظر آرہی ہے۔
سردار میر اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حلقہ میںہر ووٹر کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں جس پر ان کے حلقے کے عوام کسی پارٹی کے بجائے ان کی شخصیت کو دیکھ کرووٹ دیتے ہیں۔
ایک طرف جہاں ہوا کا رخ دیکھ کر پارٹیاں بدلنا جہاں غلط ہے وہاں ہی سردار میر اکبر حکومت میں شامل ہو کر حلقہ میں بہترین تعمیراتی کام کروا لیتے ہیں ۔
مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کے باوجود سیاسی مبصرین اس بار حلقہ میں ان کی پوزیشن کمزور بتا رہے کہ کیونکہ سردار قمرا لزمان اور سردار تنویرالیاس اتحاد سے دونوں حلقوں سے میدان میں اتریں گے۔




