توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد

حکومتی پراسیکیوشن اور تفتیشی اداروں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو توشہ خانہ سے متعلق مقدمات میں بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ توشہ خانہ ون اور توشہ خانہ ٹو دو الگ الگ مقدمات ہیں، جن میں مختلف نوعیت کے حقائق، شواہد اور جرائم شامل ہیں۔

حکام کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس مئی 2021 میں سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران ملنے والے ایک بلغاری زیورات کے سیٹ سے متعلق ہے اور یہ پہلے توشہ خانہ ون کیس کا تسلسل یا تکرار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں مقدمات مختلف لین دین اور الگ قانونی خلاف ورزیوں پر مبنی ہیں، اس لیے ’ڈبل جیپرڈی‘ کا اصول اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا۔

توشہ خانہ ٹو کیس کیا ہے؟

توشہ خانہ ٹو کیس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے تقریباً 71.5 ملین روپے مالیت کا بلغاری زیورات کا سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا، حالانکہ قواعد برائے قبولیت و تصرفِ تحائف توشہ خانہ 2018 کے تحت ایسا کرنا قانونی طور پر لازم تھا۔ استغاثہ کے مطابق توشہ خانہ رجسٹر میں بغیر زیورات جمع کرائے غلط اندراج کیا گیا۔

مزید الزام یہ بھی ہے کہ نجی ایپریزر کی مبینہ ملی بھگت سے زیورات کی قیمت جان بوجھ کر 5.859 ملین روپے مقرر کی گئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 32.8 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ ملزمان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ خیانت اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شواہد اور گواہان پر اعتراضات کا جواب:

تفتیشی حکام کے مطابق کیس کا دارومدار کسی ایک گواہ پر نہیں رکھا گیا بلکہ دستاویزی اور زبانی شواہد کو مختلف ذرائع سے جانچا گیا۔ ان شواہد میں سرکاری توشہ خانہ ریکارڈ، طریقہ کار کی خلاف ورزیوں سے متعلق گواہان کے بیانات، پاکستان کسٹمز کے سرکاری ایپریزرز کی شہادت اور باہمی قانونی معاونت کے ذریعے بلغاری اٹلی سے زیورات کی اصل قیمت کی تصدیق شامل ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ایک ہی نوعیت کے گواہان پر اعتراض کے جواب میں حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ مدت میں توشہ خانہ میں وہی افسران تعینات تھے، اس لیے انہی افراد کا بطور گواہ پیش ہونا ناگزیر تھا۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10۔10 سال قید کی سزا

بشریٰ بی بی کا کردار:

حکام کے مطابق بشریٰ بی بی کو اس بنیاد پر شریکِ ملزم بنایا گیا کہ وہ بلغاری زیورات کی براہِ راست وصول کنندہ تھیں۔ قواعد کے مطابق تحفہ وصول کرنے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرائے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ مل کر تحفہ جمع نہ کرا کے اور کم قیمت لگوا کر اسے ذاتی استعمال میں رکھا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

غیر منصفانہ ٹرائل کے الزامات مسترد:

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کو منصفانہ ٹرائل اور وکلا تک رسائی نہیں دی گئی۔ حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملزمان کے پاس الگ الگ قانونی ٹیمیں تھیں اور وکلا سے ملاقاتوں کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔
حکام نے مقدمے کو جلد نمٹانے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سماعت نومبر 2024 میں شروع ہوئی اور پندرہ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہی، جبکہ دفاع کی جانب سے متعدد بار التوا بھی لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ مدت آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے تمام تقاضوں پر پوری اترتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی تینوں بہنیں داہگل پہنچ گئیں

قانون میں ترمیم کا الزام:

استغاثہ نے واضح کیا کہ توشہ خانہ ٹو کیس قواعد برائے توشہ خانہ 2018 کے تحت چلایا گیا ہے، نہ کہ توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2023 کے تحت۔ حکام کے مطابق قوانین کو ماضی پر لاگو کر کے عمران خان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ٹو ایک الگ نوعیت کا بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا مقدمہ ہے، جبکہ سیاسی انتقام کا بیانیہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی بدستور اس مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دے رہی ہے۔

Scroll to Top