عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین اور عظمیٰ خان داہگل پہنچ گئیں،سلمان صفدر اڈیالہ جیل سے باہر داہگل پہنچ گئے ہیں اور تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان سے مشاورت جاری ہے۔ یہ ملاقات توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے بعد سامنے آئی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں فیصلہ سنایا، تاہم دلچسپ بات یہ رہی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا میں سے کوئی بھی عدالت میں موجود نہیں تھا۔
عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پی پی سی کی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال قید کی سزا بھی سنائی، جس کے بعد مجموعی طور پر دونوں کو 17 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ عدالت نے دونوں پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10۔10 سال قید کی سزا
توشہ خانہ ٹو کیس میں یہ فیصلہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ عمران خان کی بہنوں کا داہگل پہنچنا ان کے خاندانی سپورٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں سیاسی مبصرین اور عوامی حلقے اس کیس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائی گئی سزا نے نہ صرف عمران خان کی سیاسی حیثیت پر اثر ڈالا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی اس پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگلے مرحلے میں قانونی کارروائی اور اپیل کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔




