عثمان ہادی کی نمازجنازہ آج بنگلا دیشی پارلیمنٹ کیساتھ پلازا میں اداکی جائیگی، ایک روزہ سوگ کا اعلان

ڈھاکہ: بنگلادیش کے طالب علم رہنما اور سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی میت ڈھاکا پہنچا دی گئی ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلادیش ائیرلائن کا طیارہ جمعہ کی شام شریف عثمان ہادی کی میت لے کر سنگاپور سے ڈھاکا پہنچا، عثمان ہادی کی میت کو بنگلادیش کے قومی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ آج ہفتہ کو دوپہر 2 بجے بنگلادیشی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے خواہشمند افراد اپنے ساتھ کوئی بیگ یا بھاری اشیا نہ لائیں، اس کے ساتھ ہی، پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث را ایجنٹوں کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے

دوسری جانب چیف ایڈوائزر محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے انتقال پر ہفتے کے روز ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائیگا۔

شریف عثمان ہادی جمعرات کی شب سنگاپور جنرل اسپتال میں انتقال کر گئے تھے، 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پرانا پلٹن میں انتخابی مہم کے دوران حملہ آوروں کی فائرنگ سے ان کے سر پر شدید زخم آئے تھے۔

ابتدائی طور پر انہیں ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال اور ایور کیئر ہسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد 15 دسمبر کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں بالخصوص ڈھاکا میں پرتشدد احتجاج پھوٹ پڑا۔ مختلف علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اورآتش زدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی اور حکومت نے شہریوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔

عثمان ہادی پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب عام انتخابات میں صرف چند ماہ باقی تھے اور ایک دن پہلے ہی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ملک کے 13ویں پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے۔

حالیہ احتجاج کی وجہ بننے والے نوجوان انقلابی رہنماعثمان ہادی کون تھے؟

32 سالہ شریف عثمان ہادی بنگلادیش میں 2024 کی طلبا تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔

وہ انقلاب منچہ (Platform for Revolution) کے ترجمان تھے، جو سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا ایک اہم پلیٹ فارم تھا۔

ہادی آئندہ متوقع انتخابات (فروری 2026) میں ڈھاکا کے بجیوئے نگر (Dhaka-8) حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کا قتل، بنگلہ دیش میں بھارت مخالف مظاہرے،مودی نواز 2اخباروں کے دفاتر نذر آتش

وہ بھارت کے کردار پر بھی کھل کر تنقید کرتے تھے خاص طور پر اس تناظر میں کہ شیخ حسینہ واجد طلبا تحریک کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں۔

پس منظر: 2024 کی طلبا تحریک

گزشتہ برس بنگلادیش میں طلبہ نے سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا، جسے حکومت نے سختی سے کچل دیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس دوران تقریباً 1,400 افرادجاں بحق اور 20,000 سے زائد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں یہی تحریک شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنی۔

Scroll to Top