شیخ حسینہ

شیخ حسینہ کے حمایتی اساتذہ کیخلاف بنگلادیش کے طلبہ کا فیصلہ کن اقدام

ڈھاکہ : بنگلادیش کی 4بڑی یونیورسٹیز کی طلبہ یونینز نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے حامی اساتذہ کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف بیان دینے والے اساتذہ کے یونیورسٹی میں موجود رہنا ناقابل قبول ہے اور انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس سلسلے میں 10 دن کی ڈیڈلائن دی ہے ۔

یہ مطالبہ ڈھاکا یونیورسٹی ، جہانگیر نگر ، راج شاہی اور چٹاگانگ یونیورسٹی کی طلبہ یونینز نے مشترکہ طور پر کیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ واجدکو انسانیت کیخلاف جرائم پر سزائے موت سنا دی گئی

طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ پروگریسیو ٹیچرز آف بنگلادیش پبلک یونیورسٹیز کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کا کسی مجرم کے حق میں بیان دینا عدالت کے فیصلے کی توہین اور طلبہ کی قربانیوں کی بے حرمتی کے مترادف ہے ۔

طلبہ نے اساتذہ کے خلاف کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ سے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے کا تفصیلی فیصلہ سنایا تھا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مودی کو ایک اور بڑا دھچکا، خالصتان تحریک کو قانونی تحفظ مل گیا

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمہ نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دئیے اور طلبہ کی تحریک کو دبانے کے لیے توہین آمیز اقدامات کیے ۔

اسی فیصلے میں بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزمان کمال کو بھی سزا دی گئی جبکہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللّٰہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ۔

طلبہ یونینز کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر ایسے اساتذہ کے خلاف کارروائی کرے تاکہ تعلیمی ماحول محفوظ اور غیر متنازعہ رہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کو آبادی سے دور رکھنے کے لیےمنفرد طریقہ اپنایا گیا

Scroll to Top